خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 927 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 927

خطبات طاہر جلد 16 927 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء کا خط لکھا۔انہوں نے مجھے تسلی کا خط لکھا۔نہایت ہی ذلیل بات حکومت کی طرف سے یہ ہوئی ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کو جو دھمکیوں کے خط آتے تھے اور جو چھپتے بھی تھے اخباروں میں اور نام بھی لکھا ہوتا تھا ان مولویوں کا، حکومت نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔یہ جمیعت ہے جس کے سر براہ آج کل مولوی فضل الرحمان ہیں اور وہ الفاظ آپ پڑھیں خطوں کے جو خط ان کے نام آیا کرتے تھے اور جو بیان اخباروں میں چھپتے تھے وہ اتنے گندے ہیں کہ ان کو پڑھ کر سنایا بھی نہیں جاسکتا کسی کو۔نہایت ہی غلیظ زبان، ان کے متعلق اور ان کی بیگم کے متعلق ، نہایت ہی کمینی بکواس۔سپاہ صحابہ کے سر براہ ، جوسیکرٹری تھا مولانا علی شیر حیدری اس نے اخباروں میں چھپوائے ہوئے ہیں۔اب دنیا میں کہیں بھی کوئی شریف حکومت ہے تو ایسا گندہ خط چھپنے کے بعد نوٹس لئے بغیر رہ ہی نہیں سکتی ، نام لکھا ہوا ہے بڑی دلیری کے ساتھ قتل کی دھمکی دی گئی ہے کہ ہم تمہیں ضرور قتل کر دیں گے اور اس بد بخت کی جبڑے نہیں توڑے گئے۔دنیا کے کسی ملک میں بھی اگر کھلم کھلا اخباروں میں کسی کا نام لے کر قتل کی دھمکی دی جائے ناممکن ہے کہ حکومت کی مشینری فوری طور پر اس کا رد عمل نہ دکھائے۔تو پاکستان میں یہ کچھ ہو رہا ہے مگر ہمیں ان سے توقع نہیں ہے، ان پر انحصار نہیں ہے۔ہمارا انحصار اسی پر ب يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّبِرِينَ ہم اپنی گریہ وزاری صرف اپنے رب کے حضور پیش کریں گے اور ہمیشہ کرتے چلے جائیں گے کیونکہ صبر نے ہمیں یہ تلقین کی ہے خواہ ظاہری طور پر تمہیں اپنی دعاؤں کا نتیجہ دکھائی دے یا نہ دے تم نے مسلسل دعائیں جاری رکھتی ہیں اور ان دعاؤں کا نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا ہے۔پس اس پہلو سے جہاں ان پسماندگان کے لئے آپ دعائیں کریں اور دعائیں جاری رکھیں وہاں اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کریں کہ ان ظالموں کو جو اس شدید ظلم میں حصہ ڈالے ہوئے ہیں اور بہت ہیں وہ ان کو کیفر کردار تک پہنچائے کیونکہ ان کی گندی اور خبیث زبان کے بعد میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچ سکتا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی پاک تبدیلی ہو سکتی ہے۔مولوی بنا ہوا ہے، ایسی ناپاک باتیں ہیں جن سے اس کے دل کا بغض کھلتا ہے۔آج کل پاکستان کے مولویوں کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھانے کے رستے اور مقرر کئے ہیں اور غلاظت نکالنے کے اور لیکن ان کا ایک ہی رستہ ہے۔جس منہ سے یہ خدا کی باتیں کرتے ہیں، جس منہ سے کلمہ پڑھتے ہیں اسی منہ سے