خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 928
خطبات طاہر جلد 16 928 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء اتنا گند بکتے ہیں کہ اس کو جسمانی فضلے سے تشبیہ دینا بھی اس گندگی کی پوری وضاحت نہیں کرسکتا۔جو جسمانی فضلہ ہے وہ کچھ بھی نہیں اس کے مقابل پر جو ان کے منہ سے گند نکاتا ہے اس لئے ان کا ایک ہی رستہ رہ گیا ہے جس رستے سے درود پڑھتے ہیں اسی رستے سے نہایت ہی خبیثا نہ بکواس کرتے ہیں۔پس ان کے در و دقبول ہوہی نہیں سکتے کیونکہ ان کے رستے گندے ہو گئے ہیں۔بہر حال اس کی مزید تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ اخباروں میں باتیں چھپتی رہی ہیں بہت یہ گندی ہیں مگر ہمیں صبر بہر حال کرنا ہے اور اس صبر کے ساتھ میں ساری جماعت کی طرف سے ان کے پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ وہ انشاء اللہ بفضلہ تعالیٰ اپنے صبر پر پورے ثبات قدم کے ساتھ قائم رہیں گے۔مظفر احمد شہید کی نماز جنازہ غائب جمعہ وعصر کے معا بعد یہاں ہوگی۔اب میں نماز کے مضمون پر جانے سے پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی وفات پر جو مسلسل دنیا سے خطوط آ رہے ہیں ان کے متعلق یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ناممکن ہے میرے لئے اور میرے عملے کے لئے کہ ان کا جواب دے سکیں لیکن یہ میں تسلی دلاتا ہوں کہ تمام خطوط پر میں خود نظر ڈالتا ہوں۔دیکھتا ہوں کس نے لکھا ہے کیا لکھا ہے اس لئے جو ان کے دل کی خواہش ہے وہ تو پوری ہوگئی جب میں نے نظر ڈال لی اور اس وقت جو ان لوگوں کے لئے دل سے دعا اٹھتی ہے وہ بھی اس خواہش ہی کا ایک حصہ ہے۔پس اگر میری طرف سے رسیدگی کا خط بھی نہ جائے تو ہرگز اس ملال میں نہ پڑیں اور اس شبہ میں مبتلا نہ ہوں کہ وہ خط نظر سے گزرا ہی نہیں ، ایک ایک خط بلا استنی جب تک میں دیکھ نہ لوں اس وقت تک میری رات تک کی کارروائی بند نہیں ہوتی یعنی یہ فائل الگ پڑی رہتی ہے جب تک میں دیکھ نہ لوں اس وقت تک میں اپنا دفتر بند نہیں کرتا، اس لئے آپ لوگ مطمئن رہیں۔اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے لئے ضمنا میں نے جو تحقیق اور کی ہے اس پر میں حیران ہوا ہوں ایک بات پر کہ خدا تعالیٰ نے جو غیر معمولی عمر کی خبر دی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام مردانہ اولاد میں ان کے برابر کسی نے عمر نہیں پائی۔خلاف توقع' کا لفظ حیرت انگیز طور پر پورا ہورہا ہے۔اس خلاف توقع لفظ نے ہی مجھے اس تحقیق پر مجبور کیا۔میں پہلے سمجھتا تھا حضرت بھائی جان مرزا عزیز احمد صاحب کی عمران سے زیادہ لمبی تھی اور بھی کئیوں کی طرف خیال گیا،