خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 926 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 926

خطبات طاہر جلد 16 926 خطبہ جمعہ 19 دسمبر 1997ء اور جس طرح ان کی بیماری کی اطلاعیں مل رہی تھیں لازماً و ہی زخم تھے جن کا دکھ کچھ دیر اور برداشت کرنا ان کے لئے مقدر تھا۔پس شہادت بھی تھی اور شہادت کے ساتھ شہادت کی جو جسمانی تکلیفیں ہوا کرتی ہیں وہ ممتد ہوگئی تھیں۔چنانچہ مظفر احمد صاحب اپنی بھا بھی یعنی ان کی بیوہ محترمہ غزالہ بیگم صاحبہ کو گاڑی پر سوار کرانے کے لئے ساتھ لے جارہے تھے۔ٹانگے پر وہ سوار تھیں اور مظفر احمد صاحب شہید موٹر سائیکل پر پیچھے پیچھے آرہے تھے۔سول ہسپتال کے قریب پٹرول پمپ کے سامنے پیچھے سے ایک موٹر سائیکل آیا۔تانگہ پر جو ان کے بھائی کی بچی بیٹھی ہوئی تھی اس نے اس کو اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے دیکھا اور اس کے فوراً بعد فائرنگ کی آواز آئی اور مظفر احمد شہید اسی وقت زمین پر گر گئے۔بھا بھی نے مظفر احمد کو اٹھایا۔ابھی وہ زندہ تھے اور جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ شہادت ہی تھی خواہ کچھ دیر بعد ہسپتال میں وفات ہو یا دوسال لٹکنے کے بعد وفات ہو یہ شہادت ہی ہے اس میں کوئی فرق نہیں۔چنانچہ ہسپتال لے جایا گیا اور ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر آپ نے جان جان آفریں کے سپرد کی۔محترم مظفر احمد شرما کی عمر جب یہ شہید ہوئے ہیں بیالیس سال تھی۔نہایت مخلص اور فدائی، پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے لیکن کبھی عملاً وکالت نہیں کی۔اس کے باوجود ان کا اتنا اثر ورسوخ تھا اور اتنا ان کی نیکیوں کا سارے شہر میں چر چا تھا کہ بڑے بڑے دانشور بھی آپ کے ساتھ بہت محبت رکھتے تھے اور ان کو شکار پور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری کے طور پر انہوں نے منتخب کیا ہوا تھا۔باوجوداس کے کہ احمدیت کے خلاف وہاں بہت تعصب پھیلایا جاتا ہے ان کے ساتھ ذاتی تعلق کا یہ ثبوت ہے کہ ان کو با قاعدہ غیروں نے مشترکہ طور پر اپنے پریس کلب کے جنرل سیکرٹری کے طور پر چنا ہوا تھا۔ایک موقع پر، ایک تقریب پر ان کے اثر کو یہ بات بھی ظاہر کرتی ہے کہ چار ضلعوں کے ڈپٹی کمشنر ان کے بلاوے پر اس تقریب میں شامل ہوئے۔1975ء میں بھی اس خاندان نے بہت بڑی مالی قربانیاں پیش کی ہیں۔شکار پور میں یہ اکیلا احمدی گھرانہ تھا اور اس خاندان نے پوری ثابت قدمی کے ساتھ ہر مصیبت کو برداشت کیا ہے۔ان کے والد کو میں ذاتی طور پر بڑی دیر سے جانتا ہوں ، ان کا کارخانہ تھا جس کے اوپر بہت ہی ظالمانہ حملہ کیا گیا اور سب کچھ برباد کر دیا گیا لیکن ان کے ثبات قدم میں کوئی فرق نہیں پڑا۔میں نے ان کو تسلی