خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 892
خطبات طاہر جلد 16 892 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ہمارا قدم کامیابی کی طرف اٹھ رہا ہے اور اس کامیابی نے دنیا کو کامیاب کرنا ہے۔اس کامیابی نے اس دور میں احمدیت کی فتح کا اعلان کرنا ہے۔پس نمازوں میں مشغول رہیں اور اس سے مزے اٹھا ئیں خواہ لذت آئے یا نہ آئے اگر نہ آئے تو اپنے آپ کو بیمار سمجھیں اور اس بیماری کے علاج کی طرف متوجہ ہوں۔وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے جو لذت سے انسان کو محروم کر دیتی ہے۔دنیاوی مائدے اور کھانے سے اس کی مماثلت دیتے ہیں۔فرماتے ہیں: دیکھو اناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوئی ہیں تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حفظ نہیں پاتا ہے؟۔( جتنی بھی چیزیں خدا تعالیٰ نے انسان کو ودیعت فرمائی ہیں ان کے ساتھ ایک لذت وابستہ ہے۔کیا اس ذائقہ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔“ یہ زبان خدا نے منہ میں رکھی ہے جس کے اور فوائد کے علاوہ ایک یہ ہے کہ بہت سے مزوں سے زبان کے بغیر انسان لذت یاب نہیں ہو سکتا۔باہر ایک انتظام ہے اندر اس انتظام کو قبول کرنے کے لئے ایک انتظام مقرر فرمایا گیا ہے۔حالانکہ کھانے میں مزہ نہ ہوتا تو تب بھی انسان نے زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا ہی تھا مگر کھانے پر ویسی محنت نہ کرتا جیسے اب اس کے مزے کی وجہ سے کی جاتی ہے۔اکثر لوگ کھانے پر اس حد تک محنت کرتے ہیں، اس کو اچھا بنانے میں کہ زیادہ خرچ مزے پر ہے اور کم خرچ کھانے کے مادے پر یعنی وہ کھانا جس سے انسان زندہ رہ سکتا ہے اس پر اگر پانچ روپے میں کام بن جائے تو پچاس یا سو خرچ کریں گے یعنی زندہ رہنے کی خواہش کے علاوہ مزے کی خواہش ہے۔اکثر انسان کو مزے کی خواہش اصل مقصد سے دور بھی لے جایا کرتی ہے اس تجزیہ کا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انسانی زندگی پر مختلف صورتوں میں اطلاق فرمایا ہے۔یہ بحث میں بعد میں چھیڑوں گا لیکن اس وقت یا درکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں: تو کیا ان سے وہ ایک لذت اور حفظ نہیں پاتا ہے؟، کیا اس ذائقہ، مزے اور احساس کے لئے اس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔کیا وہ خوبصورت