خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 893 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 893

خطبات طاہر جلد 16 893 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات ، حیوانات ہوں یا انسان حفظ نہیں پاتا؟، کیا دل خوش کن اور سریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے ؟“ اب یہ روز مرہ کے ہمارے تجارب ہیں لیکن کم ہیں جو غور کرتے ہیں کہ ایک خوبصورت نظارے سے زیادہ ہمیں کیا حاصل ہوا ہے لیکن لذت محسوس ہوئی ہے جس نے خوبصورتی کا شعور پیدا کیا ہے جس نے تناسب اور توازن کا شعور پیدا کیا ہے یا وہ شعور جو دل میں پیدا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے حسن کے احساس کی خاطر تھا اور وہی خالق کا حسن ہے جو تخلیق میں جلوہ گر ہے اور ہم نہیں جانتے کہ ہمیں کیا حاصل ہوا۔اپنے گھر میں بیٹھے رہیں کوئی تکلیف نہ اٹھائیں اور مصیبت کر کے ، تکلیف اٹھا کر، بوجھ اٹھائے ہوئے بڑے بڑے پہاڑوں پر چڑھائیاں کریں۔اوپر جا کر آپ کو کیا ملتا ہے؟۔خوبصورت نظارے دیکھتے ہیں مگر اس نظارے نے آپ کے جسم یا بدن کو کیا زائد عطا کیا۔کچھ بھی نہیں ،صرف ایک احساس ہے عظمت اور بلندی اور رفعت کا اور وہ احساس اتنا عزیز ہوتا ہے کہ گھر کے سارے آرام انسان اس پر حج دیتا ہے ان کو چھوڑ کر، اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال کر بھی یہ کوشش اور محنت کرتا ہے۔یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس لئے بیان فرما رہے ہیں کہ یہ بے مقصد نہیں ہے۔ان ساری چیزوں کا انسانی تخلیق کے آخری مرحلے سے تعلق ہے جس میں انسان کو تمام مخلوقات پر ایک فضیلت دی گئی ہے۔مگر اگر خدا تعالیٰ یہ بھی فرمائے کہ ہم نے انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جن چیزوں کی خاطر اسے پیدا نہیں کیا جاتا وہ تو لذت دیں اور عبادت لذت سے محروم رہے۔یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے اور ایک ایسی منطقی دلیل ہے جسے تو ڑا نہیں جاسکتا۔اگر خدا ہے جیسا کہ ہے اور اگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہر ادنی چیز جس نے انسان کی ترقی میں حصہ لیا ہے اس میں تو خدا لذت رکھ دے لیکن عبادت کولذت سے یکانت محروم کر دے۔اس دلیل کی بناء پر پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید امور بیان فرماتے ہیں جن پر غور کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیں عبادت کا فلسفہ حقیقت میں سمجھ آسکتا ہے اور لذت کا نہ پانا جو بظاہر عجیب لگتا ہے کہ کیسے نماز میں لذت آئے گی یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا۔اگر چہ اس کا کرنا