خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 891
خطبات طاہر جلد 16 891 خطبہ جمعہ 5 دسمبر 1997ء صحت دینے کی راہ میں حائل ہوتے ہیں مگر نظام صحت جس کا روحانیت سے تعلق ہے اس میں ایک بڑی خوشخبری یہ ہے کہ احساس کے بیدار ہونے کا نام ہی صحت ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر ہم نماز کے لئے کوشش کریں اور مسلسل کوشش کریں کہ لطف آئے اور مزہ آ جائے اور ہمیں پوری طرح روحانی صحت نصیب ہو اور ایسا نہ ہو تو کیا یہ ساری نمازیں ضائع گئیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہر گز نہیں۔یہ ایک جہاد ہے تم یہ جہاد کرتے رہو۔بہت سے ایسے جہاد کرنے والے ہیں جن کا جہاد بظاہر بے کار جاتا ہے اور وہ فتح کا منہ نہیں دیکھ سکتے لیکن لڑتے چلے جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم ان کی زندگی کو بریکار سمجھو گے۔کیا وہ ایک کامیاب جہاد میں حصہ لینے والے نہیں ہیں۔پس تم کوشش کرتے رہو اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تم اس کوشش سے ہارو نہیں اور ہمتیں تو ڑ کر نہ بیٹھ رہو تو جس وقت بھی تم پر موت آئے گی تم ایک نمازی لکھے جاؤ گے کیونکہ اللہ کی راہ میں تم نے جہاد سے روگردانی نہیں کی۔جو مصیبتیں ٹوٹیں ، گھر والوں کے بعض دفعہ طعنے بھی سننے پڑتے ہیں کہ اس پاگل کو کیا ہو گیا ہے۔بعض دفعہ خاوند بیویوں پر ناراض ہوتے ہیں کہ ہر وقت مصلی لئے بیٹھی ہو۔یہ درست ہے کہ ہر وقت مصلی لئے اس وقت نہیں بیٹھنا چاہئے کہ خاوند کے حقوق تلف ہوں مگر بعض بے صبرے بھی ہوتے ہیں جن کو مصلی برا لگتا ہے۔تو ایسے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں اور ان کے متعلق بھی مجھ سے خطوں میں ذکر ہوتا رہتا ہے۔بعض بچے اپنے ماں باپ کا شکوہ کر رہے ہیں کہ ہم نے نمازیں شروع کی ہیں تو ان کے مزاج بگڑ گئے ہیں۔بعض بیویاں اپنے خاوندوں کا ، بعض خاوند اپنی بیویوں کے شکوے کر رہے ہیں تو ایک لگن سی لگ گئی ہے۔ایک آگ سی دلوں میں مشتعل ہو گئی ہے کہ خدا ہمیں توفیق دے تو ہم جیسا کہ نمازوں کا حق ہے وہ حق ادا کرنے کی توفیق پائیں۔یہ گن ہی دراصل صحت کی نشانی ہے اور کامیابی کا اعلان ہے۔اگر یگن جاری رہے اور میری دعا ہے، آپ سب کو بھی میں اس دعا میں اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں کہ اب بیگن سمجھنے میں نہ آئے۔تو دلوں میں ایک آگ سی لگ گئی ہے کہ ہم اپنے گناہوں کو اس آگ میں بھسم کریں اور خدا کے حضور پاک دل لے کر نمازوں میں حاضر ہوا کریں۔یہ دعا کریں کہ اب یہ آگ بجھنے میں نہ آئے یہاں تک کہ گناہ بھسم ہو جائیں اور یہی دعائیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار جماعت کو دی ہیں اور