خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 862
خطبات طاہر جلد 16 862 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء باوجود لوگ بیچ بھی جاتے ہیں اور اللہ انہیں بچا لیتا ہے اس مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں: اور جس نے اسے پیدا کیا اسی کے پاس اس کا علاج ہے“۔وہ ڈسنے کی کوشش کرتا ہے ساتھ ساتھ خدا علاج کرتا چلا جاتا ہے۔بہت سے ایسے زہر ہیں جو انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں لیکن بر وقت اگر ان کا تریاق استعمال کیا جاتارہے تو خواہ وہ قاتل بھی ہوں تب بھی قتل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔تو یہ بات یادرکھیں کہ نفس امارہ تو بہر حال ایک قاتل نفس امارہ ہے اس کا زہر ہلاک کرنے والا زہر ہے لیکن اللہ کا ایک ایسا احسان بھی ہے جو بن مانگے ہم پر ہورہا ہے اور ان معنوں میں یہ رحمانیت کا جلوہ ہے۔ہر انسانی نفس لازم نہیں کہ اس نفس امارہ کے زہر سے قتل ہو جائے اور پھر اس کو زندہ نہ کیا جاسکے۔فرماتے ہیں خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے اس کی رحمانیت ہے جو ساتھ ساتھ اس کا ازالہ کرتی چلی جاتی ہے۔یہ مضمون ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔ہر خون میں شیطان دوڑ رہا ہے۔وہ شیطان نفس امارہ ہی تو ہے اور کون سا شیطان ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے خون میں بھی۔آپ نے فرمایا ہاں میرے خون میں بھی لیکن میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے یعنی اب اس میں ڈسنے کی خواہش باقی نہیں رہی۔پس وہ مقام حقیقی اسلام کا مقام ہے جہاں کامل امن ہے اور نفس امارہ ان بار بار کی چوٹوں سے جو آسمانی بجلیوں سے اس کے سر پر پڑتی ہیں جو نماز کی حالت میں ایک نور کی طرح اوپر سے نازل ہوتی ہیں، اس کا سر اس حد تک کمزور ہوتا چلا جاتا ہے کہ اس میں وہ شوخی باقی نہیں رہتی۔پھر اگلی دفعہ کچھ اور ہو جائے گا، اگلی دفعہ کچھ اور کمزور ہو جائے گا اور آخری حالت وہ حالت ہے صلى الله جسے رسول اللہ ہے کے نفسی شیطان کے مسلمان ہونے کی حالت کا نام دیا گیا ہے۔ایک اور عبارت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جوان مشکلات کے تصور سے انسان کو ڈرانے کی بجائے انسان کا حوصلہ بلند کرتی ہے۔بعض دفعہ بعض احمد یوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم سے تو حضرت صاحب کی کتابیں پڑھی ہی نہیں جاتیں۔میں نے کہا کیا ہو گیا ہے آپ کو۔انہوں نے کہا جب کتابیں پڑھتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم احمدی بھی نہیں ،مسلمان بھی نہیں ، انسان بھی نہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے پوچھ رہے ہیں، ہم سے توقع رکھتے ہیں اس کا نام ونشان