خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 839 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 839

خطبات طاہر جلد 16 839 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء ہیں۔کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی نمازوں کو سنوارتے ہوئے ان نمازوں کے مطابق بنالیں جن کی توقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت سے رکھتے ہیں۔یہاں مختصراً آپ فرماتے ہیں: ”اے نادانو ! خدا کو حاجت نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری طرف توجہ کرے ( یہ وہی توجہ احسان والی توجہ ہے۔) ” خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الہی ہے۔“ یہ ملفوظات جلد 4 صفحہ 292 سے اقتباس لیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام متقی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: د متقی کی دوسری صفت یہ ہے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ یعنی وہ نماز کو کھر ی کرتے ہیں۔متقی سے جیسا ہوسکتا ہے نماز کھڑی کرتا ہے یعنی کبھی اس کی نماز گر پڑتی ہے پھر ا سے کھڑا کرتا ہے۔یعنی متقی خدا تعالیٰ سے ڈرا کرتا ہے اور وہ نماز کو قائم کرتا ہے۔اس حالت میں مختلف قسم کے وساوس اور خطرات بھی ہوتے ہیں جو پیدا ہو کر اس کے حضور میں حارج ہوتے ہیں۔یہ وہ سلوک کی راہ ہے جس میں سے ہم سب کو گزرنا پڑتا ہے اور کوئی انسان یہ نہ سمجھے کہ میں نے نماز شروع کی ہے بڑے خلوص اور توجہ سے اور مختلف قسم کے وساوس ہیں جو پریشان کئے رکھتے ہیں۔کوئی نہ کوئی دنیا کا جھگڑا سامنے آجاتا ہے۔کوئی فکر، کوئی غم ، کوئی تمنا دل پر قبضہ کر لیتی ہے اور بار بار نماز سے توجہ بنتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فطرت کا راز آپ کو سمجھا رہے ہیں کہ ایسا ہونا لازم ہے۔یہ ضروری نہیں کہ آپ کے ایمان کی خرابی کے نتیجے میں ایسا ہو۔اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا تعالی نماز کو کھڑی کرنے کا حکم نہ دیتا جو بعض لوگوں کے لئے زندگی بھر کا مسئلہ ہے اس لئے دو باتیں ہیں جن پر آپ کو توجہ دینی چاہئے۔ایک تو یہ کہ نماز ضرور گرتی رہے گی اور لمبے عرصہ تک ایسا ہوتا رہے گا اور ہر دفعہ آپ کو توجہ دے کر محنت کر کے اس کو کھڑا کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔مایوسی کا مقام نہیں مگر خوف کا مقام ضرور ہے۔اگر ایسی نماز جو گرتے گرتے گر ہی پڑے اور انسان اس سے غافل ہو جائے تو یہ طمع کا مقام نہیں کہ انسان سمجھے کہ ہاں میں ٹھیک ہو جاؤں گا ، یہ خوف کا مقام ہے۔انسان سمجھے کہ