خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 840 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 840

خطبات طاہر جلد 16 840 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء میں تو مر چکا ہوں۔یہ نماز جس میں انسان کے دل کا احساس مرجائے اور وہ بے خوف ہو جائے نمازیں پڑھتا ہے، ٹکریں مارتا ہے، واپس چلا جاتا ہے۔ساری عمر بعضوں نے نمازیں پڑھیں،اسی طرح پڑھیں، اسی کو پتا ہی نہ لگے کہ میری نماز وہ نماز ہے ہی نہیں جو خدا چاہتا ہے اور ہر نماز میں دنیاوی خیالات گھیرے رہیں اگر اس حالت تک انسان پہنچ جائے تو پھر وہ نماز انسان پر لعنتیں ڈالنے لگتی ہیں اور اللہ کا کلام ایسے انسان پر لعنتیں ڈالتا ہے۔فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : 5,6) یہ صورت حال کہ نماز بار بار گرتی ہے اس صورت سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔خوفزدہ اس بات سے ہونا چاہئے کہ کیا واقعہ اس گرتی ہوئی نماز کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں۔اگر کرتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ خدا تعالیٰ بالآخر تمہاری تضرعات کو سنے گا اور تمہاری مدد کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائے گا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس مضمون کی باریکی کو سمجھتے ہوئے اس طرح نماز کو کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا باقی اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔دو متقی خدا تعالیٰ سے ڈرا کرتا ہے۔( یعنی یہاں اس کا یہ خوف ہے کہ میری نماز کھڑی نہیں ہو رہی میں کیا کروں ) اور وہ نماز کو قائم کرتا ہے اس حالت میں مختلف قسم کے وساوس اور خطرات بھی ہوتے ہیں جو پیدا ہو کر اس کے حضور میں حارج ہوتے ہیں اور نماز کو گرا دیتے ہیں لیکن یہ نفس کی اس کشاکش میں بھی نماز کو کھڑا کرتا ہے، ( گرتے ہوئے دیکھتا ہے لیکن ہمت نہیں ہارتا۔کبھی نماز گرتی ہے مگر پھر اسے کھڑا کرتا ہے اور یہی حالت اس کی رہتی ہے کہ وہ تکلف اور کوشش سے بار بار اپنی نماز کو کھڑا کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس کلام کے ذریعہ ہدایت عطا کرتا ہے۔“ جس کلام کی طرف اشارہ ہے وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرما رہے ہیں: اس کی ہدایت کیا ہوتی ہے اس وقت بجائے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ اس کشمکش اور وساوس کی زندگی سے نکل جاتے ہیں۔“