خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 779
خطبات طاہر جلد 16 779 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء سے دوسروں کو بری باتوں کی جرات ہوتی ہو تو یہ بات اس کے مومن ہونے کے بھی خلاف ہے، اس کے مسلم ہونے کے بھی خلاف ہے۔تو نماز کی ایسی نشانی جس کو ہر انسان پہچان سکتا ہے وہ یہ ہے ورنہ لوگ وہموں میں مبتلا رہتے ہیں کہ تمہاری نمازوں کی کیا آواز ہے؟ وہ کیا فتویٰ دے رہی ہیں؟ اور یہ ساده سی پہچان روزمرہ کی زندگی میں انسان میں پائی جاتی ہے۔ہزار ہا ایسی برائیاں ہیں جن میں انسان مبتلا ہوتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ برائیاں آگے دوسروں کو لگنے والی ہیں اور اس میں جو احتیاط برتی جائے اس میں اور منافقت میں ایک فرق ہے۔منافقت ایسی بدی کو چھپانا ہے جس کے نتیجے میں انسان دنیا میں نیک مشہور ہو، دنیا کو بدی سے بچانا مقصود نہیں ہے۔منافقت اس کوشش کو کہتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان کے دعوؤں پر پردہ پڑا ر ہے ، ان دعوؤں سے وہ بے نیاز ہو یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کی موجودگی اسے تکلیف نہ پہنچائے اور صرف اس لئے پردہ ڈالے کہ وہ داغ ظاہر ہو کر جو اس کا ایک تاثر معاشرے میں پیدا کرتے ہیں اس کے بالکل برعکس تاثر پیدا ہو۔فحشاء بالکل اور چیز ہے۔فحشاء انسان کی ایسی بیماریاں ہیں جن کے خلاف وہ جدو جہد کرتا ہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بیماریاں اس سے ہٹ جائیں لیکن جب تک نہیں ہمتیں وہ اس غرض سے انہیں چھپاتا ہے کہ میری اولاد، میری بیوی ، میرے بچے انہی بیماریوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔پس یہ فرق ہے فحشاء اور منافقت کے مضمون میں۔پس ہر انسان اپنی ذات کو اپنی ذات ہی سے پہچان سکتا ہے کہ اس کی عادتیں اسے فحشاء کا مرتکب تو قرار نہیں دے رہیں۔ایک انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو کئی دفعہ چھپا کے بولتا ہے، کئی دفعہ کھلے اظہار کے طور پر بات کرتا ہے۔اب یہ ایک ایسی مثال ہے جو ان دونوں چیزوں میں فرق کر دے گی۔ایک انسان جھوٹ بولتا ہے کسی دوسرے کو دھوکہ دینے کے لئے ، یہ اپنی ذات میں ایک گناہ ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ اس کو پتا نہیں چلا اس لئے وہ جھوٹ بولنا فحشاء نہیں ہے وہ ایک اثم ہے، ایک ذنب ہے، ایک گناہ ہے۔مگر اس جھوٹ بولنے کو فحشاء نہیں کہہ سکتے کیونکہ جب وہ جھوٹ بول کر کسی کو دھوکہ دیتا ہے تو مقصد یہ ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے۔تو جھوٹ کا اثر فحشا نہیں ہو گا لیکن جب وہ گھر میں آکے بتاتا ہے اپنے بیوی بچوں کو اور مزے لے لے کر بتا تا ہے یا اپنے دوستوں کو سوسائٹی میں مزے لے لے کے بتاتا ہے کہ اس طرح میں نے اس کو پاگل بنایا، اس طرح میں نے اس کو بے وقوف بنایا اور دیکھو میں کیسا چالاک ہوں میں کس طرح لوگوں کو دھو کے دے کر کیسے کیسے عارضی یا