خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 778

خطبات طاہر جلد 16 778 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء آیت ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَاَقِمِ الصَّلوةَ کہ جو کچھ تجھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا جا رہا ہے کتاب میں سے، اس کی تلاوت کر واقِيمِ الصلوۃ اور نماز کو قائم کر۔گویا جو کچھ بھی کتاب میں وحی کیا جا رہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وَاَقِمِ الصلوة باقی ساری باتیں ضمنی اور نسبتاً ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔اِنَّ الصَّلوةَ تَنْھی - عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ یقینا نماز فحشاء سے منع کرتی ہے اور منکر سے منع کرتی ہے۔وَلَذِكْرُ الله اكبر اور اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔یہاں قرآن کریم نے دو باتیں ایسی بیان فرمائی ہیں جن کو ہم نماز کی نشانی کے طور پر بھی لے سکتے ہیں۔بسا اوقات انسان کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ میری نمازیں مقبول ہوئی ہیں کہ نہیں۔اس کا آسان حل اس آیت نے تجویز فرما دیا ہے۔نماز میں تو یہ خوبی ہے کہ وہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔اگر نمازیں پڑھنے کے بعد تم پھر فحشاء اور منکر میں مبتلا ہو جاؤ تو ثابت ہوا کہ تم نے نماز نہیں پڑھی کچھ اور پڑھا ہے۔یہ ایک ایسا رابطہ قرآن کریم نے ان دو چیزوں کا قائم فرمایا ہے کہ اس پر جتنا بھی غور کریں اور مزید عارفانہ مضامین آپ کو سمجھ آنے لگیں گے۔چند باتیں اس سلسلے میں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ فحشاء ہر اس بدی کو کہا جاسکتا ہے جو وبا کی حیثیت رکھتی ہو اور جو پھیلنے والی ہو۔فحشاء کا ایک معنی ہر قسم کی بے حیائی بھی لیا گیا ہے اور قرآن کریم نے اس لفظ کو مختلف معنوں میں استعمال کیا ہے لیکن جہاں تک میں نے غور کیا ہے لفظ فحشاء میں اس بدی کا ذکر ملتا ہے جو کھل جائے ، جو سوسائٹی کا حصہ بن جائے، جو اور لوگوں کے دل بھی بڑھائے کہ وہ اس بدی میں مبتلا ہوں اور نزلہ زکام اور ایسی وباؤں کی طرح اگر ایک دفعہ سوسائٹی میں پھیلیں تو پھر پھیلتی چلی جائیں۔ہر وہ بدی جو یہ مزاج رکھتی ہو اس کو فحشاء کہا جاسکتا ہے۔خواہ وہ بڑی ہو خواہ وہ چھوٹی ہو۔تو سب سے پہلی بات نماز کی قبولیت کی نشانی یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ نماز تمہارے اندر کوئی ایسی بدی باقی نہیں رہنے دے گی جس کا نقصان دوسروں کو پہنچ سکے اور مسلم کی تعریف بھی تو یہی ہے اور مومن کی تعریف بھی تو یہی ہے۔مسلم وہ ہے جو دوسرے کو امن دے، جو دوسروں کو سلامتی پہنچائے اور مومن وہ ہے جو دوسروں کو امن دے۔تو اگر کسی ذات سے گناہ کی وبائیں پھیلتی ہوں ، اس کے عمل