خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 780 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 780

خطبات طاہر جلد 16 780 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء دنیاوی فائدے حاصل کر لیتا ہوں، یہ فحشاء ہے۔اگر کسی نے غلطی سے مجبوراً جھوٹ بولا ہو، ویسے تو جھوٹ کے لئے کوئی قابل قبول مجبوری نہیں ہے اور اسے دکھ محسوس ہوا ہو تو وہ اور قسم کا جھوٹ ہے، بالا رادہ دھوکہ دینا یہ ایک اور قسم کا جھوٹ ہے۔دونوں فحشا نہیں ہیں۔مگر جب دوسرے جھوٹ کا ذکر کر کے ، جو بالا رادہ دھوکہ دینے کے نتیجے میں بولا جاتا ہے، انسان اپنی بڑائی لوگوں میں بتا تا ہے تو یہ فحشاء ہے اور جو پہلی قسم کا جھوٹ ہے جو اس نے مجبور ابول دیا ہواس پر تو وہ خود پچھتاتا ہے اس پر فخر کیسے محسوس کر سکتا ہے، وہ فحشاء بن ہی نہیں سکتا۔اس کے متعلق وہ لوگوں کو بتا تا نہیں پھرے گا کہ دیکھو میں ایسا گندہ آدمی ہوں کہ میں نے فلاں مصیبت کے وقت جھوٹ بول دیا۔پس گناہوں کی تفریق کرنے کی عادت ڈالیں۔ہر گناہ کا جو محرک ہے اس کو پہچاننے کی کوشش کریں اور یہ سفر اپنی ذات کا سفر ہے۔اپنی ذات کے سفر کے بغیر آپ کو خود اپنا چہرہ بھی صحیح دکھائی نہیں دے سکتا اور اپنی ذات کے سفر کے بغیر یہ باتیں معلوم نہیں ہوسکتیں جو قرآن کریم نے یہاں بیان فرمائیں کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ تم کس حد تک فحشاء سے بچ سکے ہو اور جیسا کہ میں نے ایک مثال جھوٹ کی دی ہے ویسی ہی بکثرت دوسری مثالیں دی جاسکتی ہیں جن میں انسان فحشاء میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی جانتا نہیں کہ میں مبتلا ہوں لیکن اگر اس نے نمازیں پہچانتی ہیں کہ میری نماز میں کیا ہیں تو پھر اسے غور کرنا ہوگا اور جب وہ غور کرے گا تو اس کا اپنا چہرہ جو اس کے اپنے آئینے میں دکھائی دے رہا ہے اسے بتائے گا کہ تم نمازیں نہیں پڑھ رہے تھے کچھ اور کر رہے تھے۔دوسرا پہلو اس آیت کریمہ کا یہ ہے کہ فحشاء میں مبتلا لوگوں کی نماز کی طرف توجہ ہو ہی نہیں سکتی۔نماز میں قیام ضروری ہے اور جو لوگ فحشاء میں مبتلا ہوں ان کے لئے نماز کا قیام بڑا مشکل کام ہے کیونکہ فحشاء ان کو اپنی طرف کھینچے گی اور بار بار ان کی نماز کو گرا دے گی۔پس یہ دوسری مصیبت ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ اگر تم نے نماز پڑھنی ہے تو نماز اور فحشاء کا ٹکراؤ ہے۔قیام نماز کے لئے ضروری ہے کہ تم فحشاء سے باز آجاؤ۔اگر نہیں آؤ گے تو عمر بھر کی نمازیں رائیگاں جائیں گی ، ان کا کچھ بھی فائدہ تمہیں نہیں پہنچے گا۔وَالْمُنْكَرِ منکر نا پسندیدہ باتوں کو کہتے ہیں جنہیں عام معاشرہ بھی ناپسندیدہ سمجھتا ہے تو محض فحشاء سے بچ جانا کافی نہیں۔منکر جو اس کے مقابل پر نسبتا ادنی درجے کی احتیاط ہے یعنی جس کو