خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 767
خطبات طاہر جلد 16 767 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء کوئی دائمی اصلاح نہیں ہو سکتی۔نمازوں کو کھڑا کرو ان معنوں میں کہ جب بھی توجہ اس سے ہٹ کر ادھر ادھر بکھرے پھر اسے سمیٹو ، پھر واپس نماز کی طرف لاؤ اور یہ وہ جد و جہد ہے جس میں آپ کو بعض دفعه ساری زندگی کام کرنا پڑتا ہے۔یہ ایک دفعہ کی جدو جہد نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیش کی جدو جہد ہے اور یہی وہ مرکزی روحانی حقیقت ہے جس کو نقصان پہنچانے کے لئے شیطان اتنی کوشش کرتا ہے کہ خود حضرت اقدس محمد مصطفی علی علیہ کی نمازوں میں بھی آپ کی توجہ بکھیر نے کی کوشش کیا کرتا تھا ينهى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق : 11،10) یعنی محمد رسول اللہ یہ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو اس وقت کئی قسم کی شیطانی کوششیں ہوتی تھیں۔آپ کو بعض دفعہ جسمانی تکلیفیں دی جاتی تھیں ، بعض دفعہ شور ڈالا جاتا تھا یہاں تک کہ اونٹ کی اوجھڑیاں تک آپ کے اوپر پھینک دی گئیں تا کہ آپ کی توجہ ہٹ جائے اور بڑی عظیم جدوجہد کے ساتھ آپ نماز پر توجہ رکھنے کی کوشش فرماتے تھے۔پس یہ وہ مسئلہ ہے جس کا آغا ز عام انسان سے، جو خدا کی خاطر نمازوں کو قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے ، شروع ہو کر اسی عبد کی طرف وہاں تک چلتا ہے جو عبد کامل ہے جس نے سب سے اعلیٰ نمازوں کا حق ادا کیا۔پس ان توجہ بکھیر نے والی چیزوں سے ان معنوں میں آپ بیزار نہ ہوں کہ یہ کیا مصیبت گلے پڑ گئی ہے۔دراصل یہ مصیبت اس لئے گلے پڑی ہے کہ جتنا آپ اس کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں صحیح معنوں میں اس وقت آپ خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔پس جتنے اردگرد سے شور و غوغا کی آواز میں اٹھتی ہیں اور آپ کی نماز میں حائل ہوتی ہیں یہ آوازیں دراصل نفس کے ان تعلقات کی آوازیں ہیں جو دنیا میں پھیلے پڑے ہیں اور غیروں کو سنائی نہیں دیتیں۔گویا عبادت کرنے والا جانتا ہے کہ جب بھی وہ خدا کی طرف توجہ پھیر نی چاہے تو دنیا کے الجھاؤ اسے اپنی طرف بلاتے ہیں اور کھینچ لے جاتے ہیں۔ہزار باتیں جن میں ان کو دلچسپی ہوتی ہے وہ نظر کے سامنے آجاتی ہیں اور توجہ خدا کی طرف سے ہٹ کر ان کی طرف چلی جاتی ہے۔ان سب جگہوں سے اکھیڑنا یعنی ان تعلقات کو اکھیڑ نا جو مادی دنیا سے آپ کو وابستہ رکھ رہے ہیں یہ نماز کا کام ہے اگر آپ نماز کی حفاظت کی طرف توجہ کریں گے۔جب آپ توجہ کریں گے اور ایک ایک کر کے ان تعلقات کو توڑ دیں گے اور جڑوں سے اکھیڑیں گے اور خدا کے لئے اپنے نفس کو خالص کرتے رہیں گے یہ کوشش ہے جس کوشش میں نماز آپ کو کھڑا کرتی ہے یعنی یہ کوشش اپنی ذات میں آپ کو کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔پس ایک