خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 768 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 768

خطبات طاہر جلد 16 768 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء معنی میں آپ نمازوں کو کھڑا کرتے ہیں اور بعینہ اسی وقت یہ نمازیں آپ کو کھڑا کر رہی ہوتی ہیں۔پس سننے میں یہ تضاد ہے یا بعض لوگوں کے دیکھنے میں یہ تضاد ہوگا۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ نماز کو کھڑا کرنا یا نماز کا آپ کو کھڑا کرنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس اس پہلو سے مستعد ہو جائیں۔اپنی نمازوں کی طرف بھی مزید توجہ کریں اور اپنے بچوں کی نمازوں کی طرف بھی مزید توجہ کریں۔ان کو سمجھائیں کہ نمازیں حکمت رکھتی ہیں اور یہ دوسرا پہلو ایسا ہے جو نماز کو کھڑا کرنے میں آپ کا بہت ممد ثابت ہوگا۔اگر کسی چیز کی اہمیت واضح ہو جائے ، اگر کسی چیز کے فوائد کا علم ہو تو از خود انسان کی توجہ اس طرف مبذول ہو جایا کرتی ہے۔جن لوگوں کی نمازیں زیادہ گرتی ہیں وہ در حقیقت زیادہ کم علم ہیں یعنی ان کو حقیقت میں نماز کے فوائد کاعلم نہیں ہوتا اور نہ ان فوائد سے وہ لذت یاب ہوتے ہیں۔پس جب ذاتی طور پر ایک چیز کے اندر جو افادیت خدا نے رکھی ہے اس کا علم ہو جائے ، اس کا حقیقی عرفان ہو جائے اور اس افادیت سے آپ خود فائدہ اٹھائیں تو توجہ بکھیر نے والے عوامل از خود چھوڑ جاتے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔پس یہ طریق کار ہے جس کے ذریعے توجہ کو مبذول کرنا ضروری ہے۔اول جیسا کہ میں نے بیان کیا کوشش کریں۔کوشش سے بھی کسی حد تک یہ مسئلہ حل ہوتا رہتا ہے لیکن اس بات کی کیوں نہ کوشش کریں کہ مصنوعی کوشش کی ضرورت نہ پڑے۔از خود دل ایک طرف سے تعلق توڑ کر دوسری طرف منتقل ہو جائے۔یہ وہ دوسرا پہلو ہے جسے انبیاء اختیار کیا کرتے ہیں اور انبیاء کی متابعت میں ان کے خالص وفادار غلام اختیار کرتے ہیں یعنی نماز میں پہلے اپنے دل اٹکاتے ہیں اور نماز میں دل کا اٹکنا خدا سے دل اٹکنے کا دوسرا نام ہے۔خدا کی ذات ،اس کی اعلیٰ صفات پر اگر غور کیا جائے اور اپنے بچوں کو بھی اس غور کے نتائج سے آگاہ کریں یعنی اپنے غور کے نتیجوں سے اپنے بچوں کو بھی ساتھ ساتھ واقف کرایا کریں، ان کو علم ہو کہ اللہ کی ذات میں وہ کون سی ایسی باتیں ہیں جو از خود فطرت کو کھینچنے والی ہیں۔اگر ان کو علم ہو جائے ، اگر یہ سفر کی دوسری منزل جیسا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے طے فرمائی تھی آپ بھی طے کرنے لگیں تو ایک بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔اس ضمن میں یا درکھنا چاہئے کہ نماز شروع ہوتے ہی وہ تمام باتیں جو ہم نماز میں کرتے ہیں