خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 751
خطبات طاہر جلد 16 751 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء ذریعے پوری کر دی جائے گی۔اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہوگا اور ان کا جائزہ لیا جائے گا۔(سنن الترمذى كتاب الصلوة باب ماجاء أن أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة الصلواة) یہاں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر فرائض میں کوئی کمی ہوئی تو نوافل سے اس کمی کا ازالہ کیا جائے گا یعنی اس کمی کو نوافل کے ذریعے پورا کر دیا جائے گا۔اس سے یہ نہ سمجھیں کہ فرائض میں کمی کی اجازت دی جارہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو نوافل ادا کرتے ہیں وہ فرائض سے غافل ہو ہی نہیں سکتے۔نوافل ادا کرنے والوں ہی کے فرائض ہیں جو دراصل معیار پر پورے اترتے ہیں۔پس اگر نوافل ادا کرنے والوں کا ذکر ہے اور ان سے نوافل کا اجر منتقل کر کے فرائض کی کمی کی طرف ڈالا جانا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ایسے نیک بندوں کی بات ہو رہی ہے جو نوافل ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور فرائض پورا کرنے کے باوجود اس کے علاوہ نوافل ادا کرتے ہیں۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص فرائض ادا نہ کرتا ہو اور نوافل ادا کرتا ہو۔پس اس سے رخصت نہ سمجھیں کہ فرائض سے عدم توجہ بھی جائز ہے۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ فرائض ادا کرنے کے باوجود یا اس کوشش کے باوجود، انسان سے سو قسم کے سقم رہ جاتے ہیں اور فرائض میں بھی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔نوافل ان کی حفاظت کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ایسے کمزور فرائض کو بھی بسا اوقات قبول فرما لیتا ہے یا قبول فرمانا چاہتا ہے جو اپنی ذات میں قبولیت کا حق نہیں رکھتے اور اس کی بہت سی وجوہات ہوا کرتی ہیں۔کئی فرائض ادا کرنے والے ایسے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے فرائض میں سو قسم کی خامیاں موجود رہتی ہیں۔مثلاً پوری نماز کو پوری توجہ سے ادا کرنا یہ ایک بہت بڑی اور عام بیماری ہے اور بسا اوقات عمر بھر فرائض ادا کرنے والے اس بات سے غافل رہتے ہیں کہ ان کے فرائض میں کوئی ایسے رنگ بھرے بھی گئے ہیں جو اللہ کی نظر پسند فرمائے؟ اگر وہ فرائض ایسے رنگوں سے عاری ہیں اور پھیکے اور بے جان ہیں تو یہ کہنا کہ فرائض ادا ہو گئے یہ درست نہیں ہوگا۔حالانکہ فرائض ادا کرنے والے کی نیت فرائض ادا کرنے کی طرف خدا کی رضا کی وجہ سے متوجہ ہوتی ہے۔اس کی نیت کی توجہ رضائے باری تعالیٰ کی طرف نہ ہو تو وہ کیوں اپنے آپ کو مشکل میں ڈالے۔پس ان فرائض کی بنیاد تو درست ہے مگر اس بنیاد پر جو عمارت تعمیر ہوتی ہے اس میں کئی قسم کی خامیاں واقع ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ عمارت اس لائق نہیں ٹھہرتی کہ اللہ اسے اپنا گھر بنائے۔