خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 750
خطبات طاہر جلد 16 750 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء کریں۔اگر آپ کے ایمپلائرز یعنی جو آپ کو دنیاوی خدمت کا یا روٹی کمانے کا موقع دیتے ہیں اگر وہ اس بات کو سمجھ جائیں اور آپ انہیں سمجھا سکیں تو پھر کوئی مشکل نہیں ، آپ کو عین مصروفیتوں کے دوران بھی نماز کا حق ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے لیکن اگر وہ ایسا نہ سمجھیں تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے رزق دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔وہی سب سے بڑا رازق ہے لیکن اگر کوئی قربانی کا وقت ہے اور ایمان کو بچانے کا وقت ہے تو یہ وہ وقت ہے کہ جہاں آپ اپنے عمل سے ثابت کر سکیں کہ آپ کو اللہ کی رضا زیادہ پیاری ہے اور دنیا کے رزق اس کے مقابل پر کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ان کو وہی مقام دیں جو ان کا مقام ہے یعنی حقیر دنیا کا مقام اور نماز کو وہی مقام دیں جو اس کا مقام ہے یعنی عزت اور بزرگی کا وہ مقام کہ جتنا زیادہ اس پر حملہ ہو اتنا ہی زیادہ یہ مستعد ہو جاتی ہے اور اتنا ہی زیادہ سر بلند ہوکر اپنی طرف بلاتی ہے کہ آؤ اور میرے تقاضے پورے کرو۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ عالمگیر ہر جگہ اسی حقیقت کی طرف دوبارہ متوجہ ہوگی جس کی طرف میں پہلے بارہا متوجہ کرتا رہا ہوں کہ ہماری زندگی ، ہماری جان ، ہماری دنیا، ہماری آخرت نماز میں ہے۔اگر نماز نہ رہے تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔وَقُوْمُوْ الله قتین اللہ کے حضور فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ایسی نماز کے وقت جب آپ دنیا کو ترک کرتے ہیں اور خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اس کو صحیح معنوں میں فرمانبرداری کہا جاتا ہے۔اگر یہاں ایسی اہم نماز سے توجہ ہٹالیں تو پھر یہ دعوئی ہے اس کی کوئی بھی حقیقت باقی نہیں رہتی۔اس ضمن میں میں نے بہت سا مواد اکٹھا کیا ہوا ہے جو پہلے بھی آپ کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں اور اب میں سمجھتا ہوں کہ شاید ایک دو اور جمعہ بھی اسی مضمون پر مجھے خطاب کرنا ہوگا۔سب سے پہلے میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی یہ حدیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، ترمذی کتاب الصلوٰۃ سے یہ روایت لی گئی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے نجات پائی۔اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔اگر اس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں۔اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی ان نوافل کے