خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 752
خطبات طاہر جلد 16 752 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی یہ نصیحت کام دیتی ہے کہ تمہارے فرائض کی خامیاں ان فرائض کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قبول کرنے سے باز نہیں رکھیں گی کیونکہ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے فرائض کو قبول فرمائے۔یہ محض اس کا احسان ہے اور وہ ان خرابیوں کو خود نظر انداز فرمائے گا جس حد تک وہ نظر انداز فرمانے کے لائق ہیں اور تمہارے نوافل کے ذریعے ان کمیوں کو پورا کرنے کی کوشش فرمائے گا۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ بھی کوشش فرماتا ہے مطلب یہ ہے کہ انسان کی خاطر ، اپنے غریب بندوں کی خاطر جتنا بھی جھک سکتا ہے جس میں اس کی صفات بعض دوسرے پہلوؤں سے حائل نہ ہوں اسی حد تک وہ جھکتا ہے، اسی حد تک وہ جھک سکتا ہے۔اگر اس کی دیگر صفات حائل ہو جائیں تو پھر وہ نہیں جھکے گا۔پس ان معنوں میں، میں نے یہ کہا کہ جس حد تک بھی خدا تعالیٰ کے لئے ممکن ہے وہ نرمی اختیار فرماتا ہے، اپنے بندوں پر جھکتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو دور فرمانے کی کوشش کرتا ہے مگر اگر پھر بھی بات نہ بنے ، اگر پھر بھی کمزوریاں باقی رہ جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ ضرور نکلے گا۔حضرت ابوایوب انصاری نے بیان کیا اور یہ روایت بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت مہ کی خدمت میں عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے اور آگ سے دور کر دے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کر ، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ ، زکوۃ دے اور صلہ رحمی کر اور رشتہ داروں کے ساتھ پیار و محبت سے رہ۔( صحیح بخاری کتاب الأدب باب فضل صلة الرحم -حديث : 5983) آگ سے دور لے جانے والا عمل بنیادی طور پر عبادت ہے۔فرمایا عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز پڑھ۔سب سے پہلے عبادت کا ذکر ہے۔حالانکہ نماز بھی ایک عبادت ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ نماز پڑھ بلکہ پہلے فرمایا عبادت کر اور عبادت ہی دراصل وہ بنیادی انسان کی صفت ہے جو اسے خدا کا بندہ بناتی ہے۔اگر عبادت کے ذریعے خدا کا بندہ نہ بنے تو نمازیں ادا کر ہی نہیں سکتا۔یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی عظیم شان ہے کہ ہر مسئلے کو اس کی بنیاد سے پکڑتے ہیں۔عبادت در اصل فرائض سے پہلے شروع ہو چکی ہوتی ہے۔عبادت کا گہرا تعلق انسان کی نیت سے ہے۔اگر ایک انسان نیت کے لحاظ سے اللہ کے حضور اپنے آپ کو ایک عبد کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ کرے تو وہیں سے اس کی عبادت شروع ہو جاتی ہے اور اس ارادے کے بغیر جو خالصہ اللہ ہو،