خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 657
خطبات طاہر جلد 16 657 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء اور عوام میں لوگوں کے سامنے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنے خطبے میں اس نے یہ کھلم کھلا اقرار کیا کہ میں مباہلے کو تسلیم کرتا ہوں اور میرے نزدیک نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے ہیں اور جو باتیں میں بیان کر رہا ہوں وہ سچی ہیں یہ کہہ کر جب اس نے مباہلے کی قبولیت کا اعلان کیا تو وہ پہلا دن تھا جو مجھے چین سے نیند آئی ورنہ اس سے پہلے بہت سخت پریشانی اور گھبراہٹ اور روحانی، دلی اور ذہنی اذیت میں مبتلا رہا جس کے آثار جماعت نے بھی محسوس کئے ہوں گے۔کئی لوگ مجھے لکھتے رہے ہیں کہ آپ کی اس دفعہ کی سفر کی تقریروں وغیرہ میں ایک بے چینی سی معلوم ہوتی تھی وہ کیا بات تھی تو میں چاہتا تھا کہ خطبے میں جب سب بات ایک اپنے منعمی کو پہنچ جائے تب میں جماعت کے سامنے ان سب باتوں کا اعلان کروں تو خدا کے فضل سے آج وہ جمعہ ہے جس میں سارے معاملات اپنے آخری منتهی تک پہنچ گئے ہیں اور اب میں آپ کے سامنے یہ ساری باتیں کھول سکتا ہوں۔6 جون کو اس نے جو اعلان کیا جماعت کے خلاف ٹیسٹ ہاؤس سے ایک ایسا خطبہ دیا جس میں صدر گیمبیا خود بیٹھا ہوا تھا اور وہ خطبہ گورنمنٹ کے ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر مشتہر کیا گیا۔جب صدر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آپ اس میں ملوث ہیں تو اس نے کہا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا یہ تو میرا امام ہے میں بیٹھا ہوا ہوں بس اس سے زیادہ میرا کوئی قصور نہیں۔جب مذہبی امور کے وزیر سے پوچھا گیا کہ جناب یہ اگر قصور کسی کا نہیں تو اس کو آپ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کیوں مشتہر کر رہے ہیں۔اگر حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں اور پھر جماعت کا ریڈیو اور آپ کے گورنمنٹ ٹیلی ویژن پر ظاہر ہونا بند کیوں کروا دیا گیا ہے؟ اس کی بکواس جاری ہے اور جماعت کا جواب دینا بند کروا دیا گیا ہے۔وہ اتنے جھوٹے لوگ ہیں کہ ملاقاتوں میں کہتے ہیں او ہو یہ تو غلطی ہے ہمارا تو کوئی دخل نہیں، یہ تو ایک عام کمینہ سا امام ہے اور اتفاق سے سٹیٹ ہاؤس کے اوپر اس کے خطبے چلتے ہیں ورنہ حکومت کا تو اس میں کوئی بھی تعلق نہیں یہ وہ بیان دیتے رہے لیکن بی بی سی کا ایک پروگرام ہے فوکس آن افریقہ (Focus on Africa) اس نے ان خطبات کا نوٹس لیا اور حکومت کی سازش پر سے پہلی دفعہ خوب کھل کے پردہ اٹھایا ہے۔بی بی سی کے پروگرام میں ایک کیمبین افریقن کا خط بیان کیا گیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر بی بی سی اس شخص لکھنے والے کو اہمیت نہ دیتی اور خود یقین نہ کرتی کہ یہ باتیں سچی ہیں تو کھل کر گیمبیا کے صدر اور اس کی حکومت کو ملزم نہ بناتی ورنہ ان کے خلاف مقدمے چل سکتے تھے