خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 658 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 658

خطبات طاہر جلد 16 658 خطبہ جمعہ 5 استمبر 1997ء کئی قسم کی کارروائیاں ہو سکتی تھیں۔بی بی سی نے بڑی بہادری کے ساتھ ایک گمنام آدمی کا خط اپنی نشریات میں ظاہر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ پیچھے کیا ہو رہا ہے اور کون ملوث ہے۔دو دفعہ بی بی سی نے ایسے خطوط پڑھے اور سارے گیمبیا میں بی بی سی بہت پاپولر یعنی ہر دلعزیز ہے اور انہوں نے سناسب نے مختصراً ایک خط میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ ایک سیمبین جس کے متعلق انہوں نے بتایا نہیں کہ کون لکھنے والا ہے اس نے ان باتوں کا اظہار کیا ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نے جس کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے یہ اقدام کیا ہے جو سراسر منفی ، غیر مذہبی اور شیطانی اقدام ہے“۔میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ گیمبیا کے عوام بہت شریف النفس لوگ ہیں اس وہم میں ہرگز مبتلا نہ ہوں کہ وہ اس سازش میں شریک ہیں۔گیمبیا پاکستان نہیں ہے، گیمبیا ایک آزاد ملک ہے اور شریف النفس لوگ ہیں جو بہادری کے ساتھ اپنے مؤقف کو بیان کرتے ہیں پاکستان میں جو بھٹو نے کارروائی کی یا ضیاء الحق نے کی اس میں ساری قوم نے بزدلانہ رویہ اختیار کیا جو شرافت کی آواز تھی وہ گنگ ہوگئی جو خبیث اور شیطانی آواز تھی وہ نہ صرف اٹھتی رہی بلکہ خوب کھل کے اس کو ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات میں شہرت دی گئی اور سارا ملک اس سازش میں گویا عمد اشریک ہو گیا۔گیمبیا کا معاملہ ہرگز وہ نہیں ہے یہ ایک بالکل اور قصہ ہے جوں جوں میں اس سے پردہ اٹھاؤں گا آپ حیران ہوں گے کہ دکھایا یہ جا رہا ہے کہ گویا گیمبیا بھی ایک اور ملک ہے جس نے احمدیت کو غیر مسلم قرار دیدیا ہے اور سارے عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔سٹیٹ ہاؤس سے خطبے دیئے جا رہے ہیں مگر ان خطبوں کی اصلیت کیا ہے وہ میں آپ کو اس خط کے ذریعے اور بعض دوسرے شواہد سے پیش کروں گا۔اس نے کہا ” حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے یہ اقدام کیا ہے سراسر منفی، غیر مذہبی اور شیطانی اقدام ہے جو گیمبیا کی ایک قانون کی پابند اور امن پسند جماعت کے خلاف اس نے اٹھایا ہے خاص طور پر جماعت احمدیہ کے خلاف امام فاتح نے جو گندا چھالا ہے سراسر جھوٹا اور قابل نفرت ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے ہمارے جواب سے پہلے ہی ایک ایسے ادارے کو جواب کی توفیق بخشی جس کا ہمارے ساتھ کوئی بھی رابطہ نہیں تھا ہمیں پتا بھی نہیں تھا کہ انہوں نے کچھ پروگرام میں ہماری جماعت کا ذکر بھی داخل کرنا ہے اور لکھنے والا ضرور کوئی ایسی اہم شخصیت ہے جس کو بی بی سی نے رد نہیں کیا کیونکہ اگر بی بی سی پہ مقدمہ چلتا تو وہ اس کو پیش کر سکتے تھے۔”الجزائر میں ہونے والے مذہبی