خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 656
خطبات طاہر جلد 16 656 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء اور پتا چلا کہ ایک بہت گہری سازش ہے جس نے سعودی عرب میں پرورش پائی ہے اور مسلسل پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اس میں شامل رہا ہے اور کویت اور مصر، یہ ان کے خاص اڈے بنائے گئے ہیں۔کیا واقعہ ہوا اور کس طرح یہ جماعت کے خلاف سازشیں پلتی ہیں؟ اس کا ایک بہت ہی اچھا موقع ہے کہ آپ کے سامنے یہ پورا نمونہ پیش کرسکوں۔6 جون کو جب میں امریکہ کے سفر پر تھا پہلی بار گیمبیا کے سٹیٹ ہاؤس سے ایک امام نے جماعت کے خلاف خطبہ دیتے ہوئے وہی بکواس کی جو پاکستانی مولوی کیا کرتے ہیں اور انہی کے الفاظ میں ہمارے مولویوں کو گالیاں دیں۔نعوذ باللہ من ذلک حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق یہ کہا وغیرہ وغیرہ۔وہ ساری تہمتیں جن کا موثر معین، منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے وہ ساری اس علم کے بغیر کہ ہم اس سے پہلے ان سب باتوں کا جواب دے چکے ہیں طوطے کی طرح رٹی ہوئی باتیں مولوی نے بیان کرنی شروع کیں۔6 جون کا اس کا پہلا خطبہ تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا شرارت نئی نئی ہے لیکن جماعت کو میں نے سمجھایا کہ یہ جو کچھ بھی بولتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایک الہی تائید کا سال ہے اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا لیکن ایک دفعہ اس سے دستخط کروادیں تا کہ عوام الناس گیمبیا کے عوام بھی اور دنیا کے عوام بھی یہ جان جائیں کہ اس نے جان بوجھ کر مباہلے کو قبول کر لیا تھا پھر اللہ کی تقدیر جو دکھائے گی وہ ہم بھی دیکھیں گے اور دنیا بھی دیکھے گی۔اس بات میں بہت وقت لگا اور اس وقت کا یہ فائدہ پہنچا کہ اندرونی طور پر جو سازش کی تھی ، کب چلی تھی ، کیسے ہوئی وہ سارے مناظر ہمارے سامنے ابھر آئے۔مولوی شروع میں تو یہ کہہ کے ٹالتا رہا کہ مباہلہ آمنے سامنے ہوا کرتا ہے اور مباہلے کے متعلق فریقین سامنے جمع ہونے چاہئیں۔میں نے کہا فورا مان جائیں ان سے کہیں آمنے سامنے مباہلہ ہو گیمبیا میں ہوتم بھی نکلو اپنے ساتھی لے کر ہم بھی نکلتے ہیں ہمیں تمہارے قتل و غارت کی کوئی پرواہ نہیں گیمبین احمدی خدا کے فضل سے بہت بہادر اور دلیر احمدی ہیں اور ہم سب میدان میں آتے ہیں۔جب یہ کہا تو پھر ٹال گیا کہ مباہلے اس طرح تو نہیں ہوا کرتے اور کئی قسم کی بے ہودہ باتیں کر کے اس سے اس نے اپنا دامن بچالیا لیکن آخر اس کو مباہلہ قبول کرنا پڑا اور مباہلہ قبول ابھی حال ہی میں اس نے کیا ہے۔جرمنی کے دورے کے دوران کئی قسم کی تشویشناک خبریں ملتی رہیں مگر میں اسی بات پر زور دیتا رہا کہ ایک دفعہ مباہلہ کر والو پھر دیکھیں گے اور پہلی دفعہ اس نے مباہلے کا اقرار کر لیا