خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 60
خطبات طاہر جلد 16 60 خطبہ جمعہ 24 جنوری 1997ء باپ کا دیکھیں میں بہت ہی گہرے مضامین لئے ہوئے ہوتے۔ ہوتے ہیں۔ تو پہلی بات یہ ہے ایماناً ۔ اب ماں ہے ذکر میں سر دست چھوڑ رہا ہوں رمضان کی طرف آرہا ہوں یعنی پہلا جزو جو ہے جس میں اگر آپ کے گناہ بخشے نہ جائیں تو گویا عمر ضائع ہو گئی ۔ رمضان ضائع ہو گیا یا عمر ضائع ہوگئی ایک ہی بات ہے۔ ماں باپ گزر جائیں اور گناہ بخشے نہ جائیں تو وقت ضائع ہو گیا یا عمر ضائع ہوگئی دونوں ایک ہی باتیں ہیں۔ ماں باپ کے تعلق میں کیا کیا کرنا چاہئے یہ ایک الگ تفصیلی مضمون ہے۔ چونکہ رمضان میں بات ہو رہی ہے، رمضان کے حوالے سے بات ہو رہی ہے اس لئے میں رمضان کے تعلق میں اس مضمون کو مزید کھولتا ہوں ۔ ایماناً یعنی الله اللہ پر ایمان ہے س لئے روزے رکھ رہا ہوں ۔ یہ ایک بہت ہی اہم مضمون ہے۔ سب سے پہلے اپنی نیتوں کو پرکھ کر دیکھیں اور غور کریں کہ واقعہ اللہ پر ایمان کے نتیجے میں روزہ ہے تو ایمان کے تقاضے بھی پورے کرتے ہیں کہ نہیں ۔ وہ ایمان جو فرضی ہو جس میں تقاضے پورے نہ کئے جائیں اس ایمان کا فائدہ کیا اور ایمان کے تقاضے پورے کرنے کے لئے احتساب ضروری ہے اس لئے ایمانا و احتسابا کے دو لفظوں کو اکٹھا جو دیا گیا ہے اور مضمون کومکمل کیا گیا ہے اور یہی بات ہے جس کی طرف میں نے آپ کو پچھلی دفعہ بھی توجہ دلائی تھی مگر اب میں شرک کے حوالے سے اس مضمون کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں ۔ احتساب یہ کریں کہ کوئی بھی شرک کا پہلو آپ کی اس نیکی میں باقی نہ رہے اور شرک کے تو پہلو آئے دن داخل ہوتے ہی رہتے ہیں اور آدمی سوچتا بھی نہیں کہ چھوٹی سی بات ہے لیکن اس میں ایک شرک کا پہلو تھا۔ جو شخص اللہ کی خاطر روزے رکھتا ہے اور روزانہ یہ حساب کرتا ہے کہ میرا وزن کتنا کم ہوا ہے اور کچھ چربی گھٹی کہ نہیں گھٹی وہ روزے کے اندر اپنے وزن کے گرانے کی ملونی کو بھی داخل کر لیتا ہے اور بظاہر بطور گناہ اس کو احساس بھی نہیں ہوتا اور اگر سرسری جائزہ لے تو گناہ ہے بھی نہیں ایک زائد فائدے کی طرف توجہ ہو جاتی ہے ۔ مگر اگر رمضان خالصہ نہیں تو بہت حد تک اس نیت سے منایا جائے کہ انسان اس موقع پر فائدہ اٹھائے جب سب فاقے کر رہے ہیں اس لئے فاقہ کرنا آسان ہو جائے گا اور ان فاقوں کے دوران اپنی Waist Line کم کی جائے اور وزن گرایا جائے سکتا ہے یہ گناہ ہے۔ گناہ تو نہیں ہے لیکن رمضان کو ایمان نہیں کہہ سکتے ۔ اس رمضا