خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 59
خطبات طاہر جلد 16 59 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء بالکل بے تعلق مضمون ہے۔پس میں نے ڈکشنری کو غور سے دیکھا،مطالعہ کیا تو پتا چلا کہ دھو کہ اس لئے لگا ہے کہ احتساب کے ساتھ اگر اجر کا لفظ آئے تو پھر ثواب کی خاطر مراد ہوتی ہے اور اگر بغیر کسی لفظ کے احتساب آئے تو وہاں حساب کرنا Accounting اور شمار کرنا اپنا، ایک ایک چیز کا جائزہ لینا یہ مراد ہوتی ہے۔چنانچہ محتسب، شہر کے محتسب کا نام آپ نے سنا ہوا ہے شعروں میں بہت ذکر آتا ہے۔جو شخص لوگوں کا حساب کرتا پھرے کہ کوئی کیا کر رہا ہے ایک انسان جو روزانہ اپنے کھاتے لے کر بیٹھتا ہے حساب کرتا ہے کہ کیا پایا اور کیا کھویا یہ سب لفظ احتساب کے تابع آتا ہے۔پس جو چوٹی کی لغات ہیں وہ اس فرق کو نمایاں کرتی ہیں۔کہتی ہیں احتساباً خالی ، جب اکیلا آئے تو اس سے مراد اول طور پر حساب کرنا ہے کیونکہ لفظ احتساب، حساب ہی سے نکلا ہوا ہے۔پس حساب کرو۔احتساب کا مطلب ہے اپنے اوپر حساب کو چسپاں کر کے خود اپنا تنقیدی جائزہ لو۔اب اتنا عظیم الشان مضمون ترجمہ کرنے والوں نے کس طرح نظر سے اوجھل کر دیا جب بار بار یہ کہا گیا کہ ثواب کی خاطر“۔تو ثواب کی خاطر تو ہر چیز کرتے ہیں کون سی چیز ہے جو ثواب کے بغیر کرتے ہوں۔تو مراد ہے احتساب کی خاطر ، جب اپنے نفس کا احتساب کرو گے کہ تم کس حالت میں ہو، روزانہ کیا تمہارا مشغلہ ہے، کیا کیا کام جو برے کام تھے تم نے اب رمضان میں چھوڑنے شروع کر دیئے ہیں۔کیا کیا کام جو اچھے تھے ان کو پہلے سے زیادہ حسین کر کے تم نے ان پر عمل شروع کیا ہے اس کو احتساب کہتے ہیں۔تو یہ مضمون بڑی خوبصورتی کے ساتھ ، بلکہ ایک نئی شان کے ساتھ آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے جب ہم احتساب کا صحیح ترجمہ کریں۔تو مراد یہ ہے کہ جو شخص ایمان کے تقاضے پورا کرتا ہوا لفظ بھی بات مبہم کرنے والا ہے، جو اللہ پر ایمان کی خاطر ایسا کرتا ہے۔اب یہ جو پہلا لفظ ہے یہی آنکھیں کھولنے کے لئے بہت کافی ہے۔بہت سے لوگ روزے رکھتے ہیں تو رسماً روزے رکھتے ہیں۔بہت سے لوگ روزے رکھتے ہیں لیکن پورا خدا پر ایمان نہیں ہوتا۔جب بھی رمضان ختم ہو تو واپس انہی پہلی منفی حالتوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور خدا کے بغیر جوان کی زندگی ہے وہ از سرنو پھر شروع ہو جاتی ہے۔ادھر رمضان ختم ہوا ادھر پرانی زندگی لوٹ آئی۔یہ جو بات ہے بہت گہری بات ہے۔آنحضرت ﷺ کے الفاظ کو کبھی بھی ملکی نظر سے نہ