خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 61

خطبات طاہر جلد 16 61 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء ایک جسمانی فائدے سے تعلق تو تھا لیکن آپ کے ایمانی فائدے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔پس رمضان کو ایما نا ر کھنے میں ایک تجزیہ یہ ہے کہ شرک کی نفی ہر پہلو سے کی جائے۔جب آپ خدا کی خاطر کھاتے ہیں اور خدا کی خاطر کھانا چھوڑتے ہیں پر ایمانا ہے۔تو جب آپ کھاتے ہیں تو کیا ہر لمحہ، ہر لقمے پر خدا کی طرف دھیان جاتا ہے، انسان کا دل جذبات تشکر سے ممنون ہو جاتا ہے کہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے میری بھوک کو مٹایا ، میری پیاس کو بجھایا اور یہ ساری نعمتیں جن کو آئے دن میں استعمال کیا کرتا تھا مگر بیدار مغزی کے ساتھ متوجہ نہیں ہوا کرتا تھا اب رمضان کی نعمت، رمضان کی برکت نے مجھے متوجہ کر دیا ، مجھے بیدار کر دیا کہ یہ جو میں آئے دن سمجھتا تھا کہ یہ روز مرہ میرا حق ہے اب پتا چلا کہ حقوق کوئی بھی نہیں اللہ کی طرف سے عطا ہو تو حق ہے ورنہ کچھ بھی نہیں اور یہ جو خیال ہے یہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے شرک ہر بدی کی نفی کرنے والی چیز ہے۔اس کے ساتھ دوسرے خیالات بھی آجاتے ہیں اور آنے چاہئیں اور یہی احتساب ہے جس کا ایمان کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا گیا ہے۔ایک تاجر کو اس وقت یہ سوچنا چاہئے کہ مجھے جو جن کھانوں کو میں جائز سمجھتا ہوں اور جائز تھے بھی ان کو جب خدا نے کہا رک جاؤ تو ان کے کھانے سے میں رک گیا۔جس پانی کو میں اپنا زندگی کا بنیادی حق سمجھتا تھا جب خدا نے فرمایا اس کے پینے سے رک جاؤ میں رک گیا تو جو پانی میں نے پہلے پیئے وہ سب حلال ہو گئے ، جو کھانے میں نے پہلے کھائے وہ سب جائز ہو گئے لیکن کیا جس کھانے سے میں روزے کی سحری کر رہا ہوں یا افطار کر رہا ہوں اس میں خدا کی رضا شامل ہے بھی کہ نہیں۔یہ احتساب کا اگلا قدم ہے۔کوئی بددیانت تاجر طمانیت قلب کے ساتھ رمضان گزار ہی نہیں سکتا اگر روزانہ صبح و شام صرف سحری اور افطاری کے وقت ہی اپنا احتساب کر لے اور اس پہلو سے کرے جیسا میں بیان کر رہا ہوں۔روزے ایمانا ر کھے ہیں تو پھر ایمان کو جانچنا ہوگا۔اللہ کی خاطر رکا ہوں تو اچھا اب تو رکا ہوں کل کیوں نہیں رکا تھا اور کل کیوں نہیں رکوں گا۔میں انتظار کر رہا ہوں کہ رمضان گزرے تو ان پابندیوں کی مصیبت سے نجات ملے اور پھر وہی تجارتیں شروع ہو جائیں جو پہلے ہوا کرتی تھیں بلکہ بعض لوگ تو اس کا بھی انتظار نہیں کرتے۔روزہ ختم ہوا تو پھر دنیا کے کاروبار اور ان کے ساتھ جتنی بھی