خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 651 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 651

خطبات طاہر جلد 16 651 خطبه جمعه 29 راگست 1997ء اضطرار کا پیدا ہونا ہے۔ابھی گناہوں نے آپ کا گھیر انہیں ڈالا ، ابھی آپ بچ نکل بھی سکتے ہیں مگر بار بار گناہوں کی طرف مائل ہونے کی بیماری کا آپ کو احساس ہے اور خیال ہوتا ہے کہ ہم پھر دوبارہ انہی گناہوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔یہ خیال ہے جو بڑھتا بڑھتا آپ کو مضطر کر سکتا ہے اور اگر اس خیال سے آپ مضطر ہو جائیں کہ ہم نہیں چاہتے اور یقینا نہیں چاہتے کہ بار بار خدا تعالیٰ کی نافرمانی کریں مگر طبعا دوبارہ اسی طرف جھکتے ہیں اور دوبارہ انہی گناہوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر یاد رکھیں کہ آپ کے اندر سے ایک مضطر اٹھ کھڑا ہو گا اور اس کی دعا ضرور سنی جائے گی۔ایسے مضطر کی بھی خدا دعا سنتا ہے جو اضطرار کی کیفیت دور ہونے کے بعد پھر انہی چیزوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کشتی میں سفر کر رہے ہیں اچھی اچھی پیاری پیاری ہوائیں چل رہی ہیں اچانک ہوا میں ہیجان پیدا ہو گیا، ایک طوفان بن گیا اور خدا کے سوا کوئی نہیں جو اس کشتی والے کو بچا سکے وہ مضطر کی دعا ہے جو سنی جاتی ہے باوجود اس علم کے کہ جب انسان خشکی میں امن کی حالت میں پہنچے گا پھر وہی کام شروع کر دے گا۔وہ خدا جو ایسے مضطر کی دعا بھی سن لیتا ہے جو اس کے اپنے خوف کی وجہ سے یعنی پیدا کردہ چیزوں کے خوف کی وجہ سے نہیں ، اس کے اپنے خوف کی وجہ سے یہ جانتے ہوئے کہ وہ مالک ہے، یہ جانتے ہوئے کہ گناہوں میں بار بار ملوث ہونا اس کے غیظ کو بھڑ کا سکتا ہے جو اس کی وجہ سے مضطر ہو کے دعا کرے اس کی دعا ضرور سنی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے حالات بدلنے کے اوپر قدرت رکھتا ہے ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کو رفتہ رفتہ گناہوں سے نفرت ہو جائے اور ان سے دل اٹھ جائے اور جب گناہوں سے نفرت ہو جائے اور دل اٹھ جائے تو جیسے کیڑیاں اس میٹھے کو چھوڑ دیں گی جو مٹھاس نہ رکھتا ہو۔ظاہری طور پر میٹھا ہولیکن Coating مثلاً ایسی ہو کہ اس مٹھاس کا اثر نہ پہنچ سکے تو کیڑیاں اس سے نہیں چمٹیں گی۔اسی طرح آپ کے گناہ، جب ضطرار پیدا ہوا اور اس کے نتیجے میں دعا کریں تو دعا آپ کے اندر تبدیلی پیدا کرتی ہے۔گناہوں نے تو کھینچنا ہے جب تک وہ اپنی ایک لذت رکھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ گناہوں کی لذات سے آپ کو نجات بخش سکتا ہے۔یہ وہ اضطرار کا مضمون ہے جسے ہر احمدی کو دلنشیں کر لینا چاہئے۔خوف خدا کا معنی اس طرح سمجھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ جانوروں میں کیا ضر ر ہے اس سے کیسے بچا جاتا ہے۔نہ بچھیں تو پھر مغفرت کیا معنی رکھتی ہے۔اسی مضمون کو روحانی نظام میں جاری