خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد 16 652 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997ء کر دیں تو آپ کو بالکل صاف دکھائی دے گا کہ یہ خوف الہی کس چیز کا نام ہے۔خوف الہی غالب قانون قدرت کا نام ہے۔خوف الہی غالب قوانین مذہب کا نام ہے۔ان قوانین نے لازماً اثر دکھانا ہے جب تک یہ یقین دل میں نہ بھر جائے کہ یہ قوانین اثر دکھائے بغیر نہیں رہیں گے یہ ایک لازمہ ہے ایک ایسی سنت اللہ ہے جس سے انسان لاکھ سر ٹکرائے اس سنت کو شکست نہیں دے سکتا تو وہ جان لے گا کہ خوف الہی کیا ہے۔قدرت الہی کا دوسرا نام خوف الہی ہے ، اس کو پہچاننے کا ، اس کے عرفان کا دوسرا نام خوف الہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔۔۔بہت ہیں کہ زبان سے تو خدا تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹول کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ ان کے اندر دہریت ہے کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قہر اور اس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔اس لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔بغیر اس کے یقین کامل ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ اس وقت حاصل ہوگا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ان کو ترک کرو اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے رہو۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 96،95) یہ دو چیزیں لازماً ضروری ہیں۔دنیا میں بھی اگر آپ جنگل کا سفر کریں تو کوشش تو کرتے ہیں کہ ہر مہلک جانور سے بچ کے چلیں۔کانٹوں سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ تدبیر ہے۔مگر بسا اوقات تذبیر کام نہیں کرتی اور اس وقت دعا کام آتی ہے۔اگر تد بیر پوری طرح اختیار کریں گے تو پھر دعا کام کرے گی۔بہت سے ایسے تجارب ہیں اور احمدیوں کو بکثرت ہوئے ہیں یعنی عام احمدی کثرت کے ساتھ گواہ ہیں اس بات کے کہ جب انہوں نے تدبیر کا دامن نہیں چھوڑا، اسے اختیار کیا تو وہ خطر ناک حادثات جوتد بیر پر غالب آجاتے ہیں انہوں نے ان کو نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ دعا ایک غالب تقدیر کا نام ہے جو ہر تدبیر کی مدد بھی کرسکتی ہے، ہر تدبیر پر مخالفانہ طور پر غالب بھی آسکتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو گناہوں سے بچنے کے لئے تدبیر کا طریقہ