خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد 16 576 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء کو دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح عیسائی قوموں پر آسمان سے نازل ہورہی ہیں ، ہوتی چلی جارہی ہیں۔سائنس میں ترقیات، علوم میں ترقیات، دنیا کی ہر چیز جس مٹی پر انہوں نے ہاتھ ڈالا اسے سونا بنادیا تو واقعہ کیمیا گری سیکھ لی مگر یہ ساری نعمتیں خدا کے ایک بندے کے دین کے اخلاص کی وجہ سے ہیں اور ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔جو مائدہ ان پر اتر رہا ہے وہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے اور آپ کی قربانیوں سے اتر رہا ہے تو دیکھیں اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے مگر دعا یہ کرنی ہے کہ ایسا ان لوگوں کو دے جو واقعہ ساتھ نیک بھی ہوں اور یہ ایک ایسی تمنا ہے جس کے لئے آپ کو بڑی محنت کرنی پڑے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھیوں، آپ کے غلاموں نے اور ہم نے جو کچھ ہمارے بس میں تھا دین کے لئے حاضر کر دیا ہے اس کے نتیجے میں آسمان سے بارشیں برس رہی ہیں اور اتنی زیادہ کہ عیسائیت کی نعمتیں اس کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں لیکن جتنی بڑی نعمتیں ہوں اتنی بڑی آزمائشیں بھی ساتھ آتی ہیں۔متقین کا امام بننے کے لئے دعا کریں اور متقین کا امام بننے کے لئے کوشش کریں اور ابھی سے کوشش کریں اگر متقین کی طرف نظر نہ پڑے آپ کی اور دنیا کی نعمتوں پر پڑے تو آنی تو ہیں مگر وہ بے کارجائیں گی اور آپ کی نیکیوں کو بھی کھا جائیں گی۔آخر پر دنیا میں سب سے بدترین لوگ جو ظاہر ہوں گے وہ جماعت احمدیہ کے بگڑے ہوئے آخری لوگ ہیں جب اسلام اور احمدیت ایک ہی چیز کے دو نام بن جائیں گے۔وہ الناس جن کے متعلق رسول اللہ یہ کی پیشگوئی ہے کہ وہ شر ہوں گے سب سے زیادہ بدترین مخلوق ہوں گے جن پر آخر قیامت ٹوٹے گی یہ لوگ نام کے احمدی کہلانے والے ہی تو ہوں گے یہ دعوی کر رہے ہوں گے کہ احمدی مسلمان ہیں۔اس بد انجام کی طرف نگاہ کریں جس کو ٹالنے کے لئے آپ نے کوشش کرنی ہے۔بعض بد انجام ایسے ہیں جو ہو کے تو رہتے ہیں مگر جو ٹالنے کی کوشش کرنے والے ہیں وہ ان کے بداثرات سے بچائے جاتے ہیں اور ان کی نسلوں پر خدا تعالیٰ احسان فرماتا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک ان کی نسلیں دنیا کی بدیوں سے بچائی جاتی ہیں۔اس مضمون کو اگر پورا کھولا جائے تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی اپنی نسل میں دیکھیں اگر چہ سیدوں میں بھی بہت بد بھی موجود ہیں، رسول اللہ ﷺ کے دین سے ہٹنے والے بھی موجود ہیں مگر ایک بہت لمبے عرصے تک حضرت اقدس محمد مصطفی ملالہ سے خونی تعلق رکھنے والوں نے دین کی عظیم الشان خدمت کی ہے۔