خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 577
خطبات طاہر جلد 16 577 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء اسی پہلو سے اکثر شیعہ ائمہ کی ہمارے دل میں گہری عزت بھی ہے اور گہری محبت بھی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی بھلائی میں ان کو دنیا سے الگ رکھنے کی جو آپ کے ہاتھ سے کوشش ہو سکتی تھی وہ کی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی تربیت میں آپ نے ایسے وقت میں جبکہ آپ کے ہاتھوں پر چکی چلاتے ہوئے چھالے پڑ جایا کرتے تھے چھوٹی سی بچی تھیں اپنے باپ کو یہ کہلا کے بھیجا کہ یہ میرا حال ہے آپ نے فرمایا تمہیں میں دین کی ایسی باتیں نہ بتاؤں کہ جو تمہیں خدا کی نظر میں مقبول کرنے والی ہوں۔ان معصوم ہاتھوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔کیوں نہیں کی ؟ آپ کو بے حد محبت تھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے لیکن محبت بچی تھی جس طرح محبت خدا کے لئے خالص تھی اسی طرح اپنے بچوں کی محبت بھی خدا کے لئے خالص تھی اور اھلیکم کا لفظ جو یہاں آتا ہے یہ تنبیہ کر رہا ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اگر آپ دین کے لئے اپنے آپ کو خالص سمجھ رہے ہیں اور وہی باتیں اپنے بچوں کے لئے نہیں چاہتے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ کا دین اس حد تک خالص نہیں ہے۔چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے جو اولاد آگے چلی ہے وہ اس لئے دیر تک دین میں خالص رہی ہے کہ آنحضرت میلہ نے اس دین کے خلوص ہی کو اپنے لئے اختیار کئے رکھا تھا۔پس آپ اگر آج اپنے بچوں کے معاملے میں اپنے دین کو خالص کریں اور یہ ضروری اس لئے ہے کہ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِینَ اِمَامًا کی دعا ہو ہی نہیں سکتی اگر یہ نہ کریں۔ایک طرف خدا سے دعا مانگیں کہ ہماری آنے والی نسلیں متقی ہوں اس میں اولا د بھی شامل ہے اور دیگر پیچھے چلنے والے بھی یعنی اول طور پر اولاد ہے تو اولاد کے لئے اگر آپ یہ دعا نہ کریں اور خالص دین کے ساتھ نہ کریں تو پھر یہ دعا اکارت جائے گی اور اگر اولاد کو اس میں شامل رکھیں گے تو مُخْلِصًا لهُ الدِّينَ کا یہ معنی آپ کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ان کو سمجھائیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی نعمتوں کو پھر خدا کی راہ میں خرچ کریں، خدا کے لئے خالص کریں اور مزہ نہ اٹھا ئیں دنیا کی نعمتوں کا جب تک ان کا خدا سے تعلق نہ ہو۔یہ تو ناممکن ہے کہ آپ اپنی اولاد کو حضرت اقدس محمد مصطفی مہینہ کی خاک پا کی طرح بنا سکیں لیکن خاک پا بنانے کی کوشش کرنا یہ لازم ہے کیونکہ اس خاک میں بھی وہ رنگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے رنگ ہیں۔دیکھو ایک گل کا اثر اس مٹی میں ہو جاتا ہے جس مٹی سے گل نکلتا ہے۔گل نکلنے سے پہلے وہ مٹی اور رنگ رکھتی ہے لیکن پھولوں کی کیاری میں خوشنما نہیں لگتی اس کی مٹی میں بھی ویسے رنگ آنے لگتے ہیں جو