خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد 16 573 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء بے چارہ ایڈیٹر کہ میں کیا کروں کن لوگوں سے واسطہ پڑ گیا ہے مجھے۔اگر نہ شائع کریں تو یہ ہماری دیواریں توڑیں گے، حملے کریں گے پھر اور شائع کریں تو ضمیر اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے غالباً یہی لکھ دیا کہ بہت سے لوگ تھے دس سے زیادہ دو سو بہت سے ہوا کرتے ہیں تو اس لئے مُخْلِصًا له الدین کا جہاں تک تعلق ہے ان کے بڑے سے بڑے چوٹی کے راہنما بھی اس سے ناواقف ہیں ان کو علم ہی نہیں کہ اسلام کی تعریف کیا ہے اسلام کی تعریف کے لحاظ سے یہ صرف اس آیت کریمہ کو اگر پڑھ لیں تو سارے لوگ یہ تمام کے تمام متقیوں کے امام جو بنے پھرتے ہیں یہ ائمہ بھی اور ان چلنے والے سارے دائرہ اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔پس ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ ہمیں کیا شمار کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے متعلق جب یہ فرمایا گیا اب تو اعلان کر سکتا ہے اَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ کا، تو ساتھ فرمایا: قُلْ إِنّى أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ - مُخْلِصًاله الدین کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقابل پر کسی کی بات ماننا بھی ایک عذاب عظیم کی طرف جانے والی بات ہے۔اللہ کی خاطر اگر دین کو خالص کرتے ہو تو غیر اللہ کی خاطر خدا کی نافرمانی گناہ ہے یعنی خالص دین کے دو پہلو بیان فرما دیئے ایک مثبت پہلو جوسب کچھ اللہ کی خاطر ہو اور ایک منفی پہلو کہ غیر اللہ کی کوئی بات بھی نہیں ماننی جو اللہ سے ہٹانے والی ہو۔قُلْ إِنِّي أَخَافُ اِن عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيهِ تو کہہ دے کہ میں غیر اللہ کی بات کو عذاب عظیم کے ساتھ وابستہ کرتا ہوں اگر میں خوف کروں غیر اللہ کا اور غیر اللہ کے خوف کی وجہ سے اللہ کی اطاعت نہیں کروں گا تو یہ ڈر ہے يَوْمٍ عَظِيمٍ کے عذاب میں میں مبتلا ہو جاؤں۔یہ مکمل تعریف ہے اسلام کی۔اس کے بعد فرمایا یہی اسلام کی تعریف، یہی عبادت کی تعریف۔قُلِ اللهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًاله دینی ان تعریفوں کے ساتھ ان معنوں میں میں اللہ کی عبادت میں اپنے آپ کو خالص پاتا ہوں صلى الله میں نے سب کچھ اللہ کے لئے خالص کر دیا۔جب یہ انسان دعوی کرے اور رسول اللہ ﷺ کا دعویٰ حرف بہ حرف سچا تھا پھر اس کے بعد غیر اللہ کی پرواہ نہیں رہتی اور اگر غیر اللہ کی پرواہ ہو تو اس کے خوف سے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا سوال ہی نہیں رہتا۔پس یہ لازم و ملزوم باتیں ہیں۔جب یہ اعلان کروایا کہ مجھے غیر اللہ کی پرواہ نہیں اور غیر اللہ کے خوف سے اللہ کی اطاعت کو نہیں چھوڑنا۔اس کے بعد فرمایا