خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 572
خطبات طاہر جلد 16 572 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء بیان فرمایا ہے جو میں نے اس آیت میں آپ کے سامنے رکھا ہے اس دین پر چلنے والوں کے پیچھے کتنے ہیں۔وہ آپ نہیں چلتے۔مولویوں کا تو حال یہ ہے کہ پیسے پیسے کی خاطر لڑتے اور کثرت سے جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ بلواتے ہیں۔بولتے ہی نہیں بلکہ بلواتے ہیں اور قرآن کے نام پر جھوٹ بلواتے ہیں۔یہ لطیفہ بھی ہے اور دردناک واقعہ بھی ہے جس طرح چاہیں اس کو آپ دیکھ لیں۔یہاں جب میں جلسے سے واپس آیا ہوں تو ایک رسالے کے ایڈیٹر یا ایک اخبار کے ایڈیٹر کا ایک بیان ایک احمدی دوست کے سامنے جو انہوں نے دیاوہ میں آپ کو سناتا ہوں وہ کہتے ہیں ہمارے تقریباً چودہ ہزار کے مجمع سے ہو کر وہ صاحب مولویوں کے جو So-called ختم نبوت کانفرنس ہے اس میں پہنچے وہاں دوسو آدمی تھے۔ایڈیٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں حیران رہ گیا۔میں نے کہا یہ ہو کیا رہا ہے سب دنیا کوللکار رہے ہیں اور کہتے ہیں ہم عالم اسلام کے نمائندہ ہیں اتنی اشتہار بازی ان کے آنے جانے کے خرچ بھی برداشت کرنے کو تیار بیٹھے ہیں کھانے پینے کے متعلق کہہ دیا کہ ہم مفت دیں گے اور کل دوسو آدمی آئے۔انہوں نے اٹھ کر مولوی صاحب سے سوال کیا میں نے احمدیوں کا جلسہ بھی دیکھا ہے وہاں تو یہ حال تھا اور یہاں میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں۔آپ کے پیچھے کل عالم اسلام کی نمائندگی میں دو سو آدمی بیٹھے ہیں۔تو مولوی صاحب کا جواب سن لیں۔انہوں نے کہا کہ دیکھو اسلام میں ایک ایک آدمی دس دس پر حاوی ہے اور ایک ایک مومن سوسو پر بھی حاوی ہے تو سو سے ضرب دو، دوسو کو کتنا بنتا ہے ہمیں ہزار۔اس نے کہا تم اخبار میں لکھ تمہارا اسلامی فرض ہے کہ تم اخبار میں یہ جھوٹ لکھو کہ میں دیکھ کے آیا ہوں وہاں ہیں ہزار آدمی آئے تھے اس قدر جھوٹی کہانی۔اسلام کا تمسخر اڑانے والے اور دین کو اس طرح مبالغہ آمیزی کے ساتھ خدا کی طرف غلط منسوب کرنے والے۔قرآن کریم نے ایک کی دو پر برتری اور ایک کی دس پر برتری تو لکھی ہے مگر ایک کی دس پر لکھتے تو دوسو کے دو ہزار بنے تھے اور وہ ہم سے بڑھتے نہیں تھے۔انہوں نے قرآن بھی نیا بنایا ہے۔انہوں نے کہا نہیں اصل میں ایک کی سوپر برتری ہے۔ہم جو مخلص لوگ ہیں یہ صحابہ سے زیادہ شان کے لوگ ہیں ان بے چاروں کو تو خدا نے ایک پہ دس کا وعدہ کیا تھا ہم سے ایک اور سو کا کیا ہوا ہے پس آپ سو سے ضرب دیں پھر جا کے ہیں ہزار بنے گا اور اخبار میں شائع کریں کہ ہم بیس ہزار آدمیوں کا مجمع دیکھ کر آئے ہیں۔وہ بتارہا تھا، وہ