خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد 16 50 50 خطبہ جمعہ 17 / جنوری 1997ء دولت جو امیروں کی سطح پر اوپر اوپر گھومتی رہے اس کا خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ تمہارے معاشرتی تقاضے ہیں تمدنی تقاضے ہیں۔جب تم ایک خاص سوسائٹی سے تعلق رکھتے ہو تو آپس میں ایک دوسرے کو تحفے دینا یہ خدا کی خاطر نہیں ہوا کرتا۔اگر خدا کی خاطر تحفے دینے ہیں تو اوپر سے نیچے کی طرف تحفے بہاؤ اور وہ لوگ جو مجبور اور غریب ہیں اگر پوری طرح نہیں تو نسبتا غریب ہیں ان کو دیا کرو۔تو جہاں تک فدیے کا تعلق ہے یہ تو آپ باہر بھیج سکتے ہیں مگر افطاریاں باہر نہیں بھیج سکتے اور اس کا بھی بڑا رواج ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ افطاریاں اپنے سے امیروں کو یا اپنے ہم پلہ امیروں کو بھیجنے کی بجائے ڈھونڈیں کہ نسبتا کون مسکین لوگ ہیں خدا کے اور یہ مسکینی جو ہے یہ ایک نسبتی چیز ہے۔ضروری نہیں کہ ایسا غریب ہو کہ اس کو صدقہ ہی دیا جائے۔حالات الگ الگ ہیں بعضوں کو کم ملتا ہے، بعضوں کو زیادہ ملتا ہے۔تو وہ لوگ جو خدا کی خاطر کسی کو خوش کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ ڈھونڈیں ایسے لوگ جن کا کھانے پینے کا معیار روزمرہ کا اتنا اونچا نہیں جتنا ان کا ہے اور وہ اگر ان کو بھیج دیں تو اس آیت کے مضمون کے مطابق وہ اپنے ہی جیسے دولتمندوں میں دولت کے چکر لگانے کے مترادف نہیں رہے گا۔پس افطاریوں میں بھی بہتر یہی ہو کہ آپ اپنے ہمسایوں کو دیکھیں، اردگر دجگہ تلاش کریں اور روزمرہ واقف جو آپ کے دکھائی دیتے ہیں ان کو بھیجیں مگر صدقے کے رنگ میں نہیں کیونکہ افطاری کا جو تعلق ہے وہ صدقے سے نہیں ہے۔افطاری کا تعلق محبت بڑھانے سے ہے اور رمضان کے مہینے میں اگر آپ کچھ کھانا بنا کے بھیجتے ہیں تو طبعی طور پر محبت بھی بڑھتی ہے اور دعا کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔اگر آپ اس عزت اور احترام سے چیز دیں کسی غریب کو یا ایسے شخص کو جونسبتا غریب ہے کہ اس میں محبت کا پہلو غالب ہو اور صدقے کا کوئی دور کا عنصر بھی شامل نہ ہو تو یہ وہ افطاری ہے جو آپ کے لئے باعث ثواب بنے گی اور آپ کے حالات بھی سدھارے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس طرح اوپر اور نچلے طبقوں کے درمیان آپس میں محبت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔دوسرے افطاری کی دعوتوں سے متعلق میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ افطاری ایک تو انسان بنا کر کسی کے گھر بھجوادیتا ہے تا کہ اس دن دعا میں ان کو بھی شامل کر لیا جائے۔وہ دیکھیں کہ فلاں نے ہم سے اتنا پیار اور محبت کا سلوک کیا تو رمضان کی دعاؤں میں ایک یاد دہانی کا کام بھی دیتی ہے