خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 51
خطبات طاہر جلد 16 51 خطبہ جمعہ 17 / جنوری 1997ء افطاری۔مگر جب آپ افطاری کی دعوتیں کرتے ہیں تو بعض دفعہ بالکل برعکس نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔بجائے اس کے کہ روزہ کھول کے انسان ذکر الہی میں مصروف ہو قرآن کریم کی تلاوت کرے جو تراویح پڑھتے ہیں وہ تراویح کے لئے تیار ہو کر جائیں اس کی بجائے مجلسیں لگ جاتی ہیں جو بعض دفعہ اتنی لمبی چل جاتی ہیں کہ عبادتیں بھی ضائع ہونے لگتی ہیں اور اگر اس دن کی عشاء کی نماز پڑھ بھی لیں وقت کے اوپر تو دوسرے دن کی تہجد کی نماز پر اثر پڑ جائے گا۔تو اسی لئے میں تو ذاتی طور پر افطاریاں کرنے کا قائل ہی نہیں ہوں۔ربوہ میں بھی میرا یہی دستور تھا کہ اگر چہ لوگ بہت اصرار کیا کرتے تھے مگر میں اسی اصرار کے ساتھ معذرت کر دیا کرتا تھا کہ رمضان کے مہینے میں یہ مشاغل کرنا اس قسم کے یہ میرے نزدیک رمضان کے مقاصد سے متصادم ہے، اس سے ٹکرانے والی بات ہے۔تو جو افطاریاں ہو چکیں پہلے ہفتے میں ہو گئیں، آئندہ سے تو بہ کریں اور مجالس نہ لگائیں گھروں میں۔مجالس وہی ہیں جو ذکر الہی کی مجلسیں ہیں اور افطاری کی مجلسوں کو میں نے کبھی ذکر الہی کی مجلسوں میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھا۔پھر وہ سجاوٹ کی مجلسیں بن جاتی ہیں، اچھے کپڑے پہن کے عورتیں، بچے جاتے ہیں وہاں خوب پھر گئیں لگائی جاتی ہیں، کھانے کی تعریفیں ہوتی ہیں اور طرح طرح کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرے دن اپنی تہجد کو ضائع کر دیتے ہیں اور پھر بے ضرورت باتیں بہت ہوتی ہیں۔تو افطاری کا جو بہترین مصرف ہے وہ یہی ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ حتی المقدور یعنی منع تو نہیں ہے کہ ہم اپنے ہم پلہ لوگوں کو جو دولت کے لحاظ سے یا اپنے سے بہتر لوگوں کو بھی تحفہ دیں۔قرآن کریم نے یہ منع نہیں فرمایا کہ آپس کے ایک ہی دائرے میں بالکل نہیں کچھ بھیجنا۔یہ فرمایا ہے کہ وہیں کے نہ ہور ہو۔ایسے تحائف نہ دو کہ صرف ایک طبقے کے لئے خاص ہو جائیں اور وہ ایک دائرے میں گھومتے پھریں اور اوپر سے نیچے کی طرف اور نیچے سے اوپر کی طرف حرکت نہ کریں۔تو ایک صحت مند جو خدا تعالیٰ نے نظام جاری رکھا ہے Ventilation کا وہ اس افطاری کے تعلق میں بھی پیش نظر رہنا چاہئے اور اس طرح اگر آپ کچھ نہ کچھ نئے لوگوں کو بھی ڈھونڈ لیں جو آپ کے دائرے سے باہر ہیں اور نسبتاً غریبانہ حالت ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ بات ایک مزید نیکی کا موجب بنے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس ہے۔آپ فرماتے ہیں حدیث شریف میں