خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 49

خطبات طاہر جلد 16 49 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء طرح بھی بن پڑے افطاری کا انتظار ہو۔اگر یہ مقصد ہے رمضان کا اور روزوں کا تو یہ تو تمہیں پہلے حال سے بدتر کر کے چھوڑ جائے گا۔اس لئے مقصد کو سمجھیں اور اس مقصد کو پیش نظر بھی رکھیں۔بچوں کو بھی سمجھا ئیں کہ اگر تم نے بھوک کا مزہ دیکھا ہی نہیں اور تمہیں یہ نہیں پتا کہ بھوک کے وقت تمہیں ذکر الہی کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں وقت صرف کر کے جو بھوک کی بے چینی ہے اسے کم کرنا ہے۔اب یہ جو مضمون ہے بدنی غذا کی کمی کا روحانی غذا کے ذریعے ازالہ کرنا یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی عمدگی کے ساتھ ، بڑی تفصیل سے کھول کر ہمارے سامنے رکھا ہے لیکن ایک اور بات میں آپ کو یہ بتا دوں اس تعلق میں کہ یہ جوفد یہ ہے اس کے علاوہ بھی رمضان میں افطاریاں کرانے کا رواج چل پڑتا ہے جو بسا اوقات اس مقصد کے خلاف ہو جاتا ہے جو میں اب بیان کر رہا ہوں۔وہ سمجھتے ہیں کھانا کھلانا، افطاری کرانا چونکہ ثواب کا کام ہے اس لئے ہم جتنی زیادہ سجا سجا کر افطاریاں کرائیں گے ، لوگوں کو بھیجیں گے اتنا ہی ہمارا رمضان کا میابی سے گزرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ افطاری کروانا ایک نیکی کا کام ہے اور غریب کو روزہ رکھوانا بھی ایک نیکی کا کام ہے۔مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسی نیکی نہ کرو، فرماتا ہے گی لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنْكُمُ (الحشر: 8) کہ جو خدا تعالیٰ نے تمہیں نعمتیں عطا فرمائی ہیں مختلف صورتوں میں۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ اس زمانے میں جہاد کے نتیجے میں بہت سی ، کثرت سے دولتیں صحابہ کو عطا کرتا رہا تو اس کے مصارف کا بیان کرتے ہوئے یہ متوجہ فرمایا كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنْكُمْ جب خدا تعالیٰ تمہیں با حیثیت بنائے، تمہارے اموال میں برکت دے تو تحفے دینے کا اس دولتمند ہونے سے یا خدا تعالیٰ کی نعمتیں حاصل ہونے سے طبعی تعلق ہے، ہر امیر تو یہ نہیں کرتا بعض امیر تو اور بھی کنجوس ہوتے جاتے ہیں ،مگر عام طور پر جس کے اچھے دن آئیں جس کو خدا تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے وہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو بھی اس سے خوش کرے اس کا بھی حصہ ڈالے تو اس زمانے میں جب خدا تعالیٰ کسی قوم کے دن بدل رہا ہوتا ہے ان کو دنیاوی نعمتیں عطا کرتا ہے تو ایک دوسرے کو تحائف دینا ایک دوسرے کی ضرورتیں پوری کرنے کا جو رواج ہے یہ از خود تقویت پا جاتا ہے۔اس تعلق میں فرمایا لیکن یہ یاد رکھنا کی لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنْكُم یہ نہ ہو کہ تم امیروں کو ہی بھیجتے رہو چیز ہیں۔جب خدا انعمتیں عطا کرتا ہے تو وہ