خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 547

خطبات طاہر جلد 16 547 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء پر قائم ہو کر بنی نوع انسان کو بلائیں تو یہی اک راہ ہے جس سے مرتی ہوئی دنیا پھر سے زندہ ہو سکتی ہے ( خطبہ جمعہ فرمودہ 25 / جولائی 1997ء بمقام اسلام آباد۔لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: الحمد للہ، کہ آج ہمارا یو کے کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے اور اس جلسے کو رفتہ رفتہ ایک عالمی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ایک مرکزیت عطا ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں لوگ اسی طرح ذوق شوق سے شامل ہونے کے لئے آتے ہیں جیسے کبھی پاکستان کے سالانہ جلسہ میں شامل ہوا کرتے تھے۔تعداد کے لحاظ سے یہ درست ہے کہ اس کی نسبت بہت کم تعداد ہے مگر نمائندگی کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ جلسوں سے کسی طرح بھی کم نہیں لیکن یہ آج کا جلسہ جو شروع ہو رہا ہے یہ تمام جلسوں میں ایک فوقیت رکھتا ہے اور ایک ایسا استثنائی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے جو باقی پہلے نہ یہاں کے جلسوں کو نصیب ہوا اور نہ اور جگہوں کے جلسوں کو کبھی اس کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا مجھے بھی پہلے کچھ دنوں تک علم نہیں تھا اور میں حسب دستور جلسہ سالانہ کی تیاری کے لئے وہ تقاریر جوگزشتہ جلسوں میں ہوتی رہیں انہیں کے تسلسل میں آگے مضمون کو بڑھاتا رہا لیکن مجھے کچھ عرصہ پہلے ایک احمدی دوست نے مطلع کیا کہ جلسہ 1997 ء عام جلسہ نہیں ہے بلکہ مختلف ایک الگ چیز ہے کیونکہ 1897ء میں یہی جلسہ جو قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منعقد فرمایا اس کی الگ ایک نرالی شان تھی جو نہ پہلے کسی جلسے کو نصیب ہوئی اور نہ بعد میں کسی کو نصیب ہوئی