خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد 16 کہ اس میں شک پیدا کرنے والی۔503 خطبہ جمعہ 4 / جولائی 1997 ء پس جو بھی ماحصل ایسے لوگوں کا ہوگا جس میں قرآن کریم سے شک دور ہونے کی بجائے شک پیدا ہوگا ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں کہ جن کو لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کے مضمون کی سمجھ نہیں آئی۔غیب تو کوئی نہیں ہے مگر متقی ہونا ضروری ہے۔پس خدا تعالیٰ سے جب آپ دعا کر کے قرآن کریم کے مضامین کو سمجھیں یا اس سے التجا کریں کہ وہ آپ کو سمجھائے تو متقی بہنیں اور پھر چونکہ اُولُوا الْعِلْمِ کے پاس عام لوگوں کا جانا ضروری ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کریں اور تفسیر صغیر اور تفسیر کبیر کا مطالعہ کریں اور ساتھ ساتھ اپنے حاصل کردہ کو پر کھتے رہیں۔اگر وہ ان کسوٹیوں پر پورا نہ اترے جو اُولُوا الْعِلْمِ کی کسوٹیاں ہیں تو اس کو چھوڑ دیں اور تقویٰ اختیار کریں پھر آپ کے دل کو ہر قسم کے شک سے پاک کیا جائے گا مگر قرآن کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ براہ راست بھی اس سے کچھ چکھیں اور اللہ تعالیٰ کے مضامین لامتناہی ہیں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسے غور کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کچھ نکات عطا فرماتا ہے۔اگر وہ متقی ہوں تو وہ فتنے کا موجب نہیں بنتے۔اگر وہ متقی نہ ہوں تو وہی نکات تردد اور شک اور فتنوں کا موجب بن جایا کرتے ہیں اور یہ منازل بعد کی منازل ہیں لیکن آغاز میں وہ برتن تو حاصل کریں جن کو بھرنا ہے اور اکثر جگہ برتن موجود نہیں۔یہ مجھے فکر ہے جو اس سفر کے دوران پہلے سے بہت زیادہ بڑھ کر میرے سامنے ابھری ہے۔بھاری تعداد میں ایسے احمدی گھر ہیں جن کو روزانہ پانچ وقت نمازیں پڑھنے اور بچوں کو پڑھانے کی توفیق نہیں ملتی اور ایسے ہیں جن کو روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کی اور بچوں کو تلاوت قرآن کریم کروانے کی توفیق نہیں ملتی۔اب یہ لوگ ہیں جن کے گھروں میں آسمانی دودھ کے نازل ہونے کے لئے برتن بھی موجود نہیں۔اگر برتن نہیں ہوگا تو بارش کے دوران آپ چلو بھر پانی پی کر پیاس تو بجھا سکتے ہیں مگر جب بارش آگے گزر جائے اور ہر طرف خشکی ہو تو آپ کے پاس کچھ بھی پیاس بجھانے کے لئے نہیں ہوگا۔پس نمازوں کا آغاز نمازوں کے برتن قائم کرنے سے ہوتا ہے۔تلاوت کا آغاز تلاوت کے برتن قائم کرنے سے ہوتا ہے اور برتن سے میری مراد یہ ہے کہ شروع کر دیں تلاوت پھر رفتہ رفتہ علم بڑھائیں اور تلاوت کو معارف سے بھرنے کی کوشش کریں، معارف سے پہلے علم سے بھرنے کی