خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 502
خطبات طاہر جلد 16 502 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء بزرگ ہیں جن کو قرآن کریم سے محبت ہے۔کچھ ایسے ہیں جنہوں نے کثرت سے تفاسیر پڑھی ہوئی ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہر جماعت میں ایسے ایک دو انسان ضرور ہوں گے جن کو دینی علم بڑھانے کا شوق ہے، ان کے پاس جانا چاہئے ، ان سے پوچھنا چاہئے اور روز بروز اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں۔اور اس سے بڑھ کر دوسرا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں اور اللہ تعالیٰ سے التجا کریں کہ وہ آپ کو سمجھا دے۔بچپن سے خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہ وہ چیز ہے جس کی طرف توجہ دلائی ہے اور مجھے بھی علماء کے پاس نہیں جانا پڑا۔جب بھی سوال اٹھتا تھا ایک بات لازماً میری مددگار ہوتی تھی۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یہ کامل ایمان تھا کہ اس سوال کا جواب موجود ہے میرے لئے غیب ہے مگر میں ایمان رکھتا ہوں۔اس غیب پر ایمان رکھتا ہوں جس پر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مومن بندے ضرور ایمان رکھتے ہیں اور اس ایمان کے نتیجے میں وہ غیب جولوگوں کے لئے غیب رہتا ہے آپ کی دعا کے ذریعے آپ کے قریب آجاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔آپ خدا سے دعا مانگیں کہ مجھے اس مضمون کی سمجھ نہیں آرہی، ایمان ضرور ہے کہ تو سچا ہے ایمان ہے کہ اس میں شک کوئی نہیں تو آپ حیران ہوں گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ آپ کی سوچوں میں برکت ڈالے گا اور اپنے فضل کے ساتھ آپ کے مسائل حل کرے گا۔اس مضمون کو میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا اس میں ایک خطرہ بھی ہے اور اس راہ کے خطروں سے آپ کو آگاہ کرنا لازم ہے۔بعض لوگ جو یہ سفر کرتے ہیں تو اپنے حاصل کردہ مطالب کو پھر وہ اپنی اہمیت دیتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ پل گیا ہے اور وہ اپنی بڑائی بتانے کی خاطر بعض دفعہ مجالس میں سوال کرتے ہیں اس مسئلے کا حل بتاؤ اور وہ سمجھتے ہیں ہمارے سوا کسی کو نہیں پتا چلے گا اور کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کا حل غلط ہوتا ہے کیونکہ سفر کے آغاز سے پہلے نیت کا پاک ہونا ضروری ہے۔اگر وہ اللہ خدا سے سوال کریں اللہ کی خاطر اور انکسار کے ساتھ اور تقویٰ کا ایک معنی انکسار بھی ہے۔جتنا بڑا متقی آپ دیکھیں گے اتنا ہی زیادہ وہ منکسر ہوگا۔وہ اپنے نفس کو اتنا ہی خدا کے حضور جھکائے گا۔وہ جب سوال کرتے ہیں تو لازماً اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دیتا ہے کیونکہ جن کے دل میں انانیت ہو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خود سیکھ لیا ہے اور یہی سب کچھ ہے اور یہ نہیں معلوم کرتے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات مضمون سے ٹکرا رہی ہیں اور قرآن کی ہر آیت، دوسری آیت کو تقویت دینے والی ہے نہ