خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 504
خطبات طاہر جلد 16 504 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء کوشش ضرور کریں اور اگر آپ اس ترتیب کو سامنے رکھیں گے تو وہ جولغزش میں نے بیان کی تھی اس سے کسی حد تک بچ سکتے ہیں۔عرفان سے پہلے عمل ہونا چاہئے اور بغیر علم کے جو عرفان ہے یہ خیالی عرفان ہے، اکثر ٹھوکروں والا عرفان ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے اُولُوا الْعِلْمِ کہہ کر متوجہ فرمایا کہ تم نے کچھ پوچھنا ہے تو اُولُوا الْعِلْمِ سے پوچھا کرو اور آنحضرت میایہ کے عرفان کا ذکر بعد صلى میں فرمایا ہے علم کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتببَ وَالْحِكْمَةَ (آل عمران:165) پہلے کتاب کی تعلیم دیتا ہے حکمت یعنی عرفان کی باتیں بعد میں آتی ہیں۔تو وہ نو جوان جو بڑے ہوں یا چھوٹے اگر وہ قرآن کریم پڑھتے ہوئے اس کا علم نہیں رکھتے یعنی ظاہری معانی جو عربی زبان سے حاصل ہو سکتے ہیں اس پر توجہ نہیں کرتے تو ان کو مجلسیں لگا کر عرفان کی باتیں کرنے کا حق ہی کوئی نہیں۔وہ جاہل ہیں اور لوگوں کو بھی جہالت کی طرف بلانے والے ہیں وقتی طور پر اپنی بڑائیاں دکھاتے ہیں مگر حقیقت میں ان کو قرآن کریم کا علم ہی نہیں ہے۔تو علم کے حصول کے لئے پھر رفتہ رفتہ ترقی ہوتی ہے بہت سی لغات کی کتب ہیں جن کو دیکھنا پڑتا ہے، بہت سے علماء سے استفادہ کرنا پڑتا ہے تو بنیادی طور پر پہلے علم کو بڑھائیں اور علم کو بڑھائیں گے تو علم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مطالعہ کی طرف بھی متوجہ ہوں گے کیونکہ یہ وہ باتیں ہیں جن کی طرف آپ کے بچے ابھی توجہ دے نہیں سکتے۔اس لئے میں آپ کو بعد کی باتیں بھی اشارہ بتا رہا ہوں لیکن فی الحقیقت زور اس بات پر دے رہا ہوں کہ آغاز کی باتوں کو پکڑ لیں اور آغاز کی باتوں پر قائم ہو جائیں باقی باتیں اللہ سنبھال لے گا اور آغاز کرنے والوں کو خدا تعالیٰ خود انگلی پکڑ کر سفر کے آخر تک پہنچا دیا کرتا ہے اور سفر کے آخر سے مراد یہ ہے کہ موت تک وہ اس سفر میں ہمیشہ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ورنہ حقیقت میں اس سفر کا کوئی آخر نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ جماعت احمد یہ کینیڈا کو بھی یہ توفیق عطا فرمائے اور باقی دنیا کی جماعتوں کو بھی۔میں چاہتا ہوں کہ اس صدی سے پہلے ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے اور ہر گھر میں روزانہ تلاوت قرآن کریم ہو۔کوئی بچہ نہ ہو جسے تلاوت کی عادت نہ ہو۔اس کو کہیں تم ناشتہ چھوڑ دیا کرونگر سکول سے پہلے تلاوت ضرور کرنی ہے اور تلاوت کے وقت کچھ ترجمہ ضرور پڑھو، خالی تلاوت نہیں کرو اور جب یہ آپ کام کرلیں گے تو پھر اردگرد مساجد بنانے کی کوشش کریں اور ان نمازیوں کو گھروں سے مساجد کی طرف منتقل کریں کیونکہ وہ گھر جس