خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 492
خطبات طاہر جلد 16 492 خطبہ جمعہ 4 / جولائی 1997 ء وقتی طور پر فوائد تو ہیں لیکن ان فوائد کا اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ ان کی دین سے محبت ، دین کے لئے وقت نکالنا ، دین کے لئے محنت کرنا ان کو گھیر کر قرآن کی طرف لے آئے۔اگر یہ فائدہ نہ ہو تو وہ کوششیں بے کار ہیں کیونکہ قرآن کریم کا پہلا تعارف ذلِكَ الْكِتُبُ ہے۔وہ کتاب جس کی قوم انتظار کر رہی ہے۔جب سے دنیا بنی ہے اس کتاب کا انتظار تھا بنی آدم کو اور جب یہ آ گئی تو کتنے ہیں جو اس سے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی امت کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ رسول یہ شکوہ کرے گا اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا۔صلى الله پس آپ وہ قوم نہ بنیں جن سے قیامت کے دن رسول اللہ یہ کو شکوہ ہو کہ اے خدا! میری کہلانے والی ، مراد کہلانے کا مضمون اس میں داخل ہے میری کہلانے والی قوم نے اس قرآن کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا، مہجور کی طرح چھوڑ کر چلی گئی۔پس آج جماعت کینیڈا کی تربیت کی ایک ہی پہچان ہے۔کیا آپ کے متعلق آنحضرت کا یہ شکوہ، جائز تو ہوگا شکوہ ، مگر آپ دل میں سوچ کے دیکھیں کہ شکوہ آپ پر اطلاق پائے گا کہ نہیں۔آپ میں سے کتنے ہیں جن کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی امی یہ قیامت کے دن خدا کے حضور عرض کر سکتے ہیں کہ اے خدا یہ میری قوم ہے جس نے قرآن کو مہجور کی طرح نہیں چھوڑا۔پس بہت ہی اہم مسئلہ ہے اور عبادت کی جان قرآن کریم ہے۔عبادت سے پہلے بھی قرآن ہے یعنی تہجد کے وقت بھی جتنی توفیق ملے۔قرآن کریم فرماتا ہے قرآن کی تلاوت کیا کرو اور عبادت کے دوران بھی تلاوت ہے اور عبادت کے بعد بھی تلاوت ہے۔پس تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالنا اور اس کے معانی پر غور سکھانا یہ ہماری تربیت کی بنیادی ضرورت ہے اور تربیت کی کنجی ہے جس کے بغیر ہماری تربیت ہو نہیں سکتی اور یہ وہ پہلو ہے جس کی طرف اکثر مربیان، اکثر صدران ، اکثر امراء بالکل غافل ہیں۔ان کو بڑی بڑی مسجد میں دکھائی دیتی ہیں ، ان کو بڑے بڑے اجتماعات نظر آتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ بڑے جوش سے اور ذوق وشوق سے لوگ دور دور کا سفر کر کے آئے اور چند دن ایک جلسے میں شامل ہو گئے لیکن یہ چند دن کا سفر تو وہ سفر نہیں ہے جو سفر آخرت کے لئے مد ہو سکتا ہے۔سفر آخرت کے لئے روزانہ کا سفر ضروری ہے اور روزانہ کے سفر میں زادراہ قرآن کریم ہے۔