خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد 16 493 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے ایک مومن کی مثال اسی طرح دی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تین سو پچپن دن سوتا ہے اور پھر پانچ دس دن کے لئے جاگتا ہے اور سفر شروع کر دیتا ہے۔فرمایا مومن کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی روزانہ سفر کر رہا ہو۔کچھ صبح، کچھ شام کو، کچھ دوسرے وقت میں ، دو پہر کو کچھ آرام بھی کر لے مگر سفر روزانہ جاری رہنا چاہئے اور ہر سفر کے لئے قرآن کریم فرماتا ہے زادراہ ہونا چاہئے اور زاد راہ تقوی بیان فرمایا اور یہی زاد راہ ہے جس کو قرآن کریم کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔پس تقویٰ اور قرآن کریم تو روز کے سفر کے قصے ہیں۔یہ کوئی ایک آدھ دفعہ سال میں سفر کرنے سے تعلق رکھنے والی بات نہیں روزانہ ضرورت ہے۔روزانہ قرآن کو پڑھنا اور روزانہ تقوی کے سہارے جو زاد راہ ہے یعنی جس سے قوت ملتی ہے قرآن کریم سے کچھ نہ فائدہ حاصل کرتے چلے جاتا ہے۔یہ وہ بنیادی امر ہے جس کے لئے صرف تنظیموں کے اجتماعات کی ضرورت نہیں ،تنظیموں کے اجتماعات ان باتوں میں نئی دلچسپیاں پیدا کر دیا کرتے ہیں مگر سارا سال دلچپسی قائم رکھنے کے لئے ماں باپ کی دلچسپی کی ضرورت ہے اور ماں باپ تب دلچسپی لے سکتے ہیں کہ پہلے اپنی ذات میں دلچسپی لیں۔دنیا کے کسی حصے میں پہنچے ہوں ایک دفعہ انہیں عزم کرنا ہوگا کہ ہم نے خدا کی طرف سفر کا آغاز کرنا ہے اور یہ سفر قرآن کے بغیر ممکن نہیں اور قرآن کا سفر زادراہ چاہتا ہے۔یعنی رستے کا سامان جو ہر مسافر ساتھ باندھ لیا کرتا ہے۔جب بھی لوگ سفر پہ چلتے ہیں تو سوائے اس کے کہ رستے کے کچھ کھانے پینے کے ہوٹل ایسے ہوں جہاں سے چیزیں خریدنی ہوں مگر عموماً اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ باندھ لیا کرتے ہیں اور تقویٰ ہے جس کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔پس فرمایا ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ شک سے بالا کتاب ہے مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہدایت صرف متقیوں کے لئے ہے، جو تقویٰ سے آراستہ ہوں گے ان کے لئے ہدایت کا سامان پیدا کرے گی۔پس قرآن کا تقویٰ سے مطالعہ یہ دو چیزیں اکٹھی کر دی گئی ہیں بعض اوقات لوگ سال ہا سال تلاوت قرآن کرتے ہیں مگر اس طرح جیسے طوطارٹی ہوئی باتیں دہراتا ہے۔اس سے زیادہ ان کو کوئی سمجھ نہیں آتی اور یہ تقویٰ سے عاری سفر ہے۔سفر تو ہے مگر بھوکے ننگے کا سفر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ قرآن