خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 491
خطبات طاہر جلد 16 491 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء کے لئے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔جو تقویٰ اختیار نہیں کرتے ان کے لئے ذلِكَ الْكِتُبُ دور کی کتاب رہے گی جو بظاہر ان کے سامنے ہے مگر ان سے دور ہٹی رہے گی۔تو جب تک یہ کتاب قریب نہ آئے اس دنیا کے مسائل حل نہیں ہو سکتے اور کینیڈا کی جماعتوں کو خصوصیت سے اس طرف توجہ دینی چاہئے۔بعض باتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کینیڈا میں پہلے سے بہتر ہو رہی ہیں مگر اگر بنیادی مقصد دور ہی رہے تو اس ظاہری ہنگامے کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔یہ ہنگامے رفتہ رفتہ مر جایا کرتے ہیں۔رفتہ رفتہ اگلی نسلیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کو بھلا دیا کرتی ہیں مگر کلام الہی سے محبت ایک ایسی چیز ہے جو نسلوں کو سنبھالے رکھتی ہے۔پس بچپن ہی سے اس بات پر زور دیں یعنی آپ کے بچوں کے بچپن، آپ تو بڑے ہو چکے آپ نے تو جس طرح بھی خدا نے چاہا یا آپ نے چاہا خدا کی مرضی کے مطابق یا اس کے خلاف زندگی بسر کر لی لیکن اگلی نسلیں آپ کی ذمہ داری ہیں اور آئندہ صدی ان اگلی نسلوں کی ذمہ داری ہوگی پس آج اگر آپ نے ان کو قرآن کریم پر قائم نہ کیا تو باقی ساری باتیں جو اس کے بعد بیان ہوئی ہیں ان میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔قرآن کریم پر زور دینا اور تلاوت سے اس کا آغاز کرنا بہت ہی اہم ہے۔مگر تلاوت کے ساتھ ان نسلوں میں ، ان قوموں میں جہاں عربی سے بہت ہی ناواقفیت ہے ساتھ ترجمہ پڑھنا ضروری ہے۔ترجمے کے لئے مختلف نظاموں کے تابع تربیتی انتظامات جاری ہیں مگر بہت کم ہیں۔جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اٹھا سکتے ہیں۔اس لئے جب میں ایسی رپورٹیں دیکھتا ہوں کہ ہم نے فلاں جگہ قرآن کریم کی کلاس جاری کی یا فلاں جگہ قرآن کریم کی کلاس جاری کی تو میں ہمیشہ تعجب سے دیکھتا ہوں کہ اس کلاس میں سارے سال میں بھلا کتنوں نے فائدہ اٹھایا ہو گا اور جو فائدہ اٹھاتے بھی ہیں تو چند دن کے فائدے کے بعد پھر اس فائدے کو زائل کرنے میں باقی وقت صرف کر دیتے ہیں۔وہی بچے ہیں جن کو آپ نے قرآن کریم سکھانے کی کوشش کی چند دن بعد ان سے پوچھ کے دیکھیں تو جو کچھ سیکھا تھا سب بھلا چکے ہوں گے۔بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ ہماری جو بڑی نسل ہے اس نے قرآن کریم کی طرف پوری توجہ نہیں دی اور اکثر ہم میں بالغ مرد وہ ہیں جو دین سے محبت تو رکھتے ہیں لیکن ان کو یہ سلیقہ سکھایا نہیں گیا کہ قرآن سے محبت کے بغیر دین سے محبت رکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔