خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 472

خطبات طاہر جلد 16 472 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء نمازیں اکارت جائیں گی اور جھوٹ جو ہے کئی طرح کے بھیس بدلتا ہے۔آج کل میراز ور ہے تبلیغ کے اوپر ، میں جماعتوں سے توقع رکھتا ہوں کہ خوب تبلیغ کریں اور کثرت سے دنیا میں پھیلیں کیونکہ ہمارے پاس اب وقت بہت تھوڑارہ گیا ہے یعنی اس صدی کے موڑ تک پہنچتے پہنچتے ابھی ہم نے اتنے سفر کرنے ہیں کہ اگر ہم مہینوں کے سفر دنوں میں نہ کریں اور صدیوں کے سالوں میں نہ کریں تو ہم اپنے فرض منصبی کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے کیونکہ ہم نے اب تک بہت سے کام کر لینے تھے جو نہیں کر سکے ، بہت سا وقت ضائع کر چکے ہیں۔ایک طالب علم جو سارا سال نہ پڑھے کم سے کم آخری رات تو اٹھ جاتا ہے اور ساری رات لگا کر کوشش کرتا ہے کہ میں جو کچھ وقت کھو چکا اس کا کچھ حاصل کر لوں لیکن ہم نظام جماعت کے طور پر نظام کو بھی جوابدہ ہیں اور افراد کے طور پر اللہ تعالیٰ کو بھی جواب دہ ہیں اور یہ دوسری جوابدہی بہت زیادہ سخت ہے۔اس جواب دہی میں جو جماعت کو ہے کئی لوگ جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور بعض دفعہ جانتے نہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔یہ وہ امر ہے جس کی طرف خصوصیت سے میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔رپورٹوں میں مبالغے ہوتے ہیں، لکھا جاتا ہے کہ جب ہم نے اتنا کام کر لیا اور خدا کے فضل سے اتنے نئے احمدی ہو گئے اور جب ان کو دیکھنے کی کوشش کی جائے تو وہ دکھائی نہیں دیتے۔جب دیکھا جائے کہ جماعت کے روزمرہ کے کاموں میں ان کے داخل ہونے سے کیا فرق پڑا ہے تو کوئی بھی فرق دکھائی نہیں دیتا۔اب یہ ایک جھوٹ کی قسم ہے لیکن اس پر شیطان کئی قسم کے پردے ڈال لیتا ہے۔مثلاً ایک آدمی کو اور ایسے بہت سے واقعات میرے علم میں ہیں یہ کہا گیا کیوں جی ہم اچھی باتیں کہہ رہے ہیں نا، جماعت احمد یہ ٹھیک ہے نا۔وہ کہتے ہیں ہاں جی بالکل ٹھیک ہے۔اچھا بھئی تمہارا نام لکھ لیتے ہیں اور اس بیچارے کو کچھ بھی پتا نہیں کہ کس چیز میں نام لکھا گیا ہے اس نے تائید تو صرف اس بات کی کی ہے کہ ہاں آپ اچھے لوگ ہیں۔لیکن اگر اس کے برعکس اس کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمیں دنیا کیا کہتی ہے، ان کو بتایا جاتا کہ دیکھو ہم وہ ہیں جن کو نعوذ باللہ من ذالک اسلام میں رخنہ ڈالنے والا شمار کیا جاتا ہے۔ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ تم نے نیا دین بنالیا ہے۔ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ خاتم النبین کو بطور خاتم النبین حقیقت میں تسلیم نہیں کرتے ، جھوٹ بولتے ہو کہ خاتم النبین ہیں کیونکہ ان کو خاتم مانتے ہوئے بھی تم