خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 473
خطبات طاہر جلد 16 473 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء نے ایک نیا نبی کھڑا کر لیا ہے۔اب یہ وہ تلخ باتیں ہیں جو جماعت کے متعلق کہی جاتی ہیں۔یہ سنائیں اور پھر اقرار لیں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے ان سب باتوں کے باوجود ہم قبول کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ بچی ہے تو پھر اس کو سچائی کہتے ہیں۔پس بظاہر ایک شخص نے جھوٹ نہیں بولا یعنی بظاہر جھوٹ نہیں بولا اس نے یہ رپورٹ کی کہ جب میں نے ان سے پوچھا تو وہ کہتے ہیں جی ٹھیک ہے سب کچھ۔اس پر میں نے کہا اچھا دستخط کر دواب۔ان دستخطوں کا کیا فائدہ کیونکہ جب ایسے لوگوں تک دوسرے پہنچتے ہیں اور ایسا با رہا ہوا ہے۔بعض ایسے ابتلاء میں نے دیکھے ہیں جو بڑی بڑی جماعتوں پر آئے ہیں جونئی بنائی ہوئی جماعتیں تھیں۔وہاں مربیان نے ان کو ہرگز نہیں بتایا کہ ہمارے متعلق دنیا کیا کہ رہی ہے اور چونکہ ان کے کردار اچھے تھے، ان کے عمل اچھے تھے، وہ دیکھنے میں بڑے پکے مسلمان دکھائی دیتے تھے، نمازیں پڑھتے تھے تو دیکھنے والوں نے کہا تم بہت اچھے لوگ ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کی بیعتیں کروالی گئیں اور جب مخالف پہنچے وہاں ، جب پاکستان کو اطلاع ملی یا دوسرے دشمنوں کو انہوں نے فتنہ پرداز مولوی بھیجے۔انہوں نے کہا تم یہ ہو گئے ہو یہ تو ایسے ہیں اور یہ تو ویسے ہیں اور ان ایسی ویسی باتوں کی ان کو کوئی بھی خبر نہیں تھی۔چونکہ تبلیغ کرنے والے نے ان کو چھپا لیا تو یہ بھی تو ایک جھوٹ ہے حق کو چھپانا تا کہ کوئی مقصد حاصل ہو جائے۔یہ بھی ایک ظلم ہے تو ایسے لوگ اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے غالباً اسرار کریں گے کہ ہم نے کوئی جھوٹ نہیں بولالیکن ان کا نفس اندر سے جانتا ہے اور ان کو ملزم گردانتا ہے، جانتا ہے کہ انہوں نے حق سے اختفاء کیا ہے اور حق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔اب ایسی جماعتوں کا فائدہ کیا ہے جو جھوٹ سے بنائی جائیں۔ہمیں تو ان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ایسے لوگ جب وہ بتاتے ہیں کہ اب ہمیں پتا چلا ہے تو میں ان کولکھتا ہوں بڑی اچھی بات ہے آپ جہاں سے آئے تھے وہاں واپس چلے جائیں ، جماعت احمدیہ کو تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے جو جماعت میں داخل ہونے کو ایک آسان مزے کا کام سمجھیں اور آسان مزے کے کاموں میں ایک یہ بات بھی داخل ہے کہ ان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم تمہارے لئے مسجدیں تعمیر کریں گے، تمہارے لئے مشن ہاؤس بنائیں گے، تمہاری یہ خدمت کریں گے اور تمہاری وہ خدمت کریں گے اور اس کے علاوہ ہسپتال بنائیں گے اور پھر سکول جاری کریں گے تو یہ ساری باتیں وہ ہیں