خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 471

خطبات طاہر جلد 16 471 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء شیطان انسان کو دکھائی نہیں دیتا۔کوئی ان سے وہ سلوک کرے تو واویلا کریں گے، شور مچائیں گے، کہیں گے کیسی جماعت ہے جہاں ایسے ایسے لوگ داخل ہیں جو اس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان فرموده حقوق کو ادا نہیں کرتے اور عائد شدہ قدروں کی پرواہ نہیں کرتے اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تم کیا کرتے ہو تو بعض دفعہ معصومیت سے کہیں گے ہم تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ہم تو کبھی بھی خدا تعالیٰ کی جان بوجھ کر نافرمانی نہیں کرتے۔کوئی غلطی سے بات ہو جائے تو ہو جائے لیکن یہ بات جھوٹ ہے اور واقعہ انسان جان بوجھ کر ہر فیصلے کے موقع پر نافرمانی کا قدم اٹھاتا ہے۔اب جھوٹ کی بات چل رہی ہے تو یا د رکھیں کہ جھوٹ اس وقت انسان کا ، ساری دنیا کا سب سے بڑا دشمن ہے۔جھوٹ کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ محض دین کی تعلیم ہے، مسلمانوں کو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے یہ جھوٹ کی حقیقت کو نہ سمجھنے کا ایک اور انداز ہے۔جھوٹ تو دنیا کے زہروں کی طرح ہے۔وہ زہر نیکی اور بدی کی تمیز نہیں کرتے ، وہ زہر ضرور ہلاک کرتے ہیں۔اگر اتنی مقدار میں استعمال ہوں کہ ہلاک کرنے والے ہوں۔وہ زہر ضرور لمبا، دائمی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔جب ان کی سرشت میں لمبا عرصہ داخل کر دیا گیا ہو یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، تو وہ تو اپنا کام دکھاتے ہیں۔اسی طرح جھوٹ بھی ایک تو گناہ ہے یعنی ہر مومن جو اللہ پر ایمان لاتا ہے، محمد رسول اللہ یہ کی پیروی فرض سمجھتا ہے اس کے لئے جھوٹ ایک گناہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس گناہ کا حساب کتاب زیادہ تو یوم آخرت میں ہو گا لیکن میں ایک بات آپ کو بتا رہا ہوں کہ جھوٹ ایک زہر بھی ہے اور وہ زہر ایسا ہے جو روز مرہ ضرور اثر دکھاتا ہے اس کا منفی اثر ضرور جاری ہوتا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔ساری دنیا میں سب سے بڑا فساد جھوٹ ہے اور دراصل اس لئے کہ جھوٹ شیطان کی عبادت کا ایک اور نام ہے میں جماعت کو پہلے بھی بارہا سمجھا چکا ہوں کہ تم کہتے ہو ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ إيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی غفلتیں جو سرزد ہو جاتی ہیں ان کے متعلق تو آپ استغفار سے کام لے سکتے ہیں مگر اگر یہ اقرار ہی جھوٹ ہو اور سراسر جھوٹ ہو اور انسان جانتا ہو کہ جب بھی مدد کی ضرورت پڑتی ہے ہم غیر اللہ کی طرف منہ کرتے ہیں تو ایسے شخص کو دنیا کی سزا تو ملنی ہی ہے آخرت کی سزا بھی ملے گی اور اس کی ساری