خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 465
خطبات طاہر جلد 16 465 خطبہ جمعہ 20 جون 1997 ء ایسے نہیں بنتے۔ہمیں بنانے کی ضرورت ہے، محنت کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے حوالے سے سب دنیا کو بھی تبلیغ کے نئے دور میں داخل ہوتے وقت ان تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ایک اعلان کرنا ہے ہمارے ایک داعی الی اللہ جو علاقے کے سابق امیر وہاڑی تھے عتیق احمد صاحب ان کو کل شہید کر دیا گیا ، 19 / تاریخ کو تقریباً ساڑھے پانچ بجے وہ اپنی زمینوں کی طرف جارہے تھے جیسا کہ وہاں رواج ہے آج کل مولویوں کے پاس موٹر سائیکل بھی ہیں اور ساتھ ان کے کلاشنکوف بردار بھی پیچھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ملک کا قانون یہ ہے کہ ایک موٹر سائیکل پر دو سفر نہیں کر سکتے مگر مجرموں کو تو پولیس بھی نہیں دھت کار سکتی تو وہ ایک موٹر سائیکل سوار آیا پیچھے سے آگے آگے بڑھا اور فائر کر کے پہلے ڈرائیور کو اور پھر باجوہ صاحب کو موقع پر شہید کر دیالیکن باجوہ صاحب بڑے دیر تبلیغ کرنے والے تھے۔بہت بہادر داعی الی اللہ تھے اتنے کہ میں نے ان کو کچھ عرصہ پہلے خط لکھا باجوہ صاحب آپ کی نیکی، آپ کی بہادری اچھی ہے مگر ہمیں ضرورت ہے کہ آپ کے جیسے زیادہ دیر زندہ رہیں اس لئے آپ کو اپنی زندگی کی پرواہ نہیں ، آپ کو شہادت کا شوق ہے تو ہوگا مجھے ضرورت ہے کہ آپ لوگ کچھ اور اب زندہ رہیں تا کہ دنیا میں پاک تبدیلیاں پیدا ہوں۔مگر وہ بڑے مضبوط کردار کے ان معنوں میں تھے کہ جو دل میں آئی وہ کر کے رہنا ہے، ایک مخلص احمدی اوپر سے باجوہ۔پس انہوں نے میری بات مانی نہیں اور جو اس قسم کی احتیاطیں میں نے کہی تھیں وہ انہوں نے پرواہ نہیں کی۔مگر یہ وہ شہادت ہے جس کے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم غمگین بھی ہوتے ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں۔اس راہ میں یہ قربانیاں تو دینی ہی دینی ہیں۔لاکھوں پاکستان میں جو آئے دن بدیوں کی موت مرتے پھرتے ہیں کچھ احمدی اس راہ میں جو دعوت الی اللہ کی راہ ہے شہید ہو جائیں تو غم تو ہوگا مگر اس کے ساتھ ہی ہم جانتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی آنحضرت ﷺ کے غلاموں نے شہادتوں کی قربانیاں پیش کی تھیں۔پس یہ قربانیاں ہمیں پیش کرنی ہوں گی مگر حکمت کے تقاضے ضرور پیش نظر رکھیں۔لازماً حکمت کے ساتھ آگے بڑھنے کے نتیجے میں اگر آپ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو ہم خوشی سے اس نقصان کو قبول کریں گے، ہرگز نہیں ڈریں گے مگر اگر غلطی سے حکمت کے تقاضے نہ پورے کئے جائیں تو یہ بہادری تو ہوگی اپنی جگہ مگر دوسروں کے لئے زیادہ تکلیف کا موجب بنتی ہے۔پس میں