خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 464
خطبات طاہر جلد 16 464 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء کے دل میں پیدا کر رہی ہیں تو پھر کسی فکر کی ضرورت نہیں ہے۔جس ماحول میں آپ جائیں گے وہ آپ کے ساتھ ساتھ جائیں گی ہمیشہ وہ ماحول کو آپ کے مزاج کے مطابق تبدیل کرتی رہیں گی۔پس اس پہلو سے آئندہ آنے والی تبلیغ کے لئے بھی اپنے آپ کو تیار کریں اپنی نسلوں کے لئے جو آپ خدا کے حضور جواب دہ ہیں اس نقطہ نگاہ سے بھی ان کو تیار کریں اور یاد رکھیں کہ آنے والوں کا ہم پر حق ہے ہر آنے والے نے اس کی مہر کو ضرور قبول کرنا ہے یا اس کے اثر کو کچھ نہ کچھ ضرور لینا ہے جس نے اسے احمدیت کا پیغام دیا۔پس بہت بڑا کام ہے مگر ہمیں کرنا ہے۔امریکہ کی تبدیلی ایک بہت بڑی تبدیلی ہے اگر اب ہم نے نہ کی تو کوئی اور نہیں کر سکے گا۔یہ ایک ایسی قطعی بات ہے جس میں کوئی آپ تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام دنیا میں تبدیلیاں اور پاک تبدیلیاں قائم کرنے کے لئے پیدا فرمائے گئے ہیں ان کو دنیا سے نکال دو تو دنیا میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔دیکھو حضرت ابراہیم علیہ والسلام نے خدا سے کیا عرض کیا تھا جب آپ کو بتایا گیا کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم مٹائی جانے والی ہے تو بہتوں سے شروع کر کے آخر دس تک جا پہنچے اے خدا ان میں دس بھی نیک نہیں ہیں جن کی خاطر لاکھوں کو زندہ رکھا جاتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے جواب دیا کہ دس بھی نیک نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رحم کے تعلق میں بہت جھگڑا کرنے والا تھا اور یہ ایک ابراہیم علیہ السلام کی تعریف ہے جو بظاہر برائی ہے مگر اللہ بڑے محبت کے انداز میں بیان کر رہا ہے کہ یہ تو ہم سے بھی جھگڑا کرتا ہے مگر ہماری مخلوق پر رحم کرتے ہوئے۔وہاں ابراہیم نے جھگڑا چھوڑ دیا اے خدا اگر ان میں دس بھی ایسے نہیں ہیں تو پھر میں کچھ مطالبہ نہیں کرتا۔تو تم تو ہزاروں لاکھوں ہو کر وڑ بیان کئے جاتے ہو کر وڑ سے بھی اوپر کی باتیں کر رہے ہو۔میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں اگر تم اپنے اندر وہ نقوش پیدا کر لوجو نقوش مہر محمدی کے نقوش ہیں تو اربوں آپ کی وجہ سے بچائے جائیں گے۔ہو نہیں سکتا کہ دنیا ہلاک ہو جب تک آپ اس دنیا میں موجود ہیں۔پس امریکہ کے متعلق مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اگر یہاں پانچ ہزار بھی صلى الله ایسے ہو جائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے نقوش اپنے اندر اپنانے والے ہوں تو لازماً امریکہ کو بچایا جائے گا لیکن اگر گہرائی میں اتر کے دیکھیں تو پانچ ہزار بھی