خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 418

خطبات طاہر جلد 16 418 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء نافع الناس وجود بنا دیا، جہاں بھی ایک شخص کو اس کی تخلیق کے تقاضے پورے کرنے کے سلیقے سکھا دیئے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کے مطابق پیدا کیا ہے ہر شخص میں صلاحیت موجود ہے کہ اس خلقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔نظام جماعت کا کام یہ ہے کہ ہر فرد بشر کی خلقت کے مطابق اسے سمجھا دے کہ تم کیا کچھ کر سکتے ہو۔ایک دفعہ آپ کر دیں تو پھر روزانہ انگلی نہیں پکڑنی محمد اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کا یہ معنی بھی تو ہے۔پھر وہ کام جب سیکھ جاتا ہے اس کو اتنا مزہ آتا ہے اس خدمت میں کہ وہ از خود اس کام کو آگے بڑھا تا چلا جاتا ہے بلکہ اس کی فکر لگی رہتی ہے کہ مجھے کچھ اور ملے ، میں اور بھی زیادہ پہلے سے بڑھ کر کام دکھانے والا ہوں۔ایسے لوگوں کے لئے تو کسی سیکرٹری تبلیغ کی ضرورت نہیں رہتی۔یہی وہ لوگ ہیں جن سے میں کہہ رہا ہوں کہ سیکرٹری تبلیغ فائدے اٹھائیں۔جب ایک دفعہ آپ نے ساری جماعت کو نظام میں ڈھال دیا تو پھر آگے آگے بھاگے گی۔پھر آپ کے لئے اور کچھ نہیں کرنا سوائے دعاؤں کے۔پھر اپنی توجہ کو دوسری طرف پھیریں۔جیسے ہر دن ایک نیا تخلیق کا مضمون اٹھاتا ہے اسی طرح آپ کا ہر دن نئی تخلیق کی باتیں سوچنا شروع کر دے کہ یہ کام آگے بڑھانے میں وقت لگے گا۔مگر جب آگے بڑھے گا تو حیرت انگیز نتائج نکلیں گے۔اس طرح ہم نے دنیا فتح کرنی ہے جس طرح خدا نے سکھایا ہے، جس طرح خدا نے محمد رسول اللہ ﷺ کوحکم دیا۔ان باتوں کو بھلا کر نظام کائنات سے منہ موڑ کر آپ دنیا کی ایک گلی بھی فتح نہیں کر سکتے ، اپنا گھر بھی فتح نہیں کر سکتے ، اپنی اولاد کی بھی تربیت نہیں کر سکتے۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ اس طرح ہم اپنے کاموں کو منظم کر لیں اور ہر امیر کوعلم ہو کہ آج میرا دن کل کے دن سے بہتر ہے۔آج پہلے سے بڑھ کر میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان فرائض کو بہتر رنگ میں سرانجام دینے کی طاقت رکھتا ہوں اور دعائیں کرنا نہ بھولیں۔وہ میں ساتھ ساتھ یاد کراتا رہوں گا۔ہر کام دعا کے ساتھ آسان ہو جایا کرتا ہے دعا کے بغیر ہر اعلیٰ سے اعلیٰ تدبیر بھی بے کار چلی جاتی ہے۔یعنی روحانی دنیا میں دعا کو مسبب الاسباب ہونے کا مقام حاصل ہے اس کے ساتھ اب میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔ایک بات حضرت سیدہ مہر آپا کے متعلق یہ بیان کرنی چاہتا ہوں۔سید نعیم احمد صاحب ان کے بھائی واپس تشریف لائے ہیں ان سے باتیں ہوئیں ان کو علم نہیں تھا بہت سی باتوں کا کہ کس طرح