خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 417
خطبات طاہر جلد 16 417 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء آج مجلس سوال و جواب میں میں نے یہی مسئلہ اٹھایا تھا۔اردو کی وہ مجلس سوال و جواب تھی کہ پانی کو دیکھ لوکس طرح خدا اٹھا رہا ہے، کس طرح پہنچا رہا ہے، کس طرح واپس کر رہا ہے، کس طرح Waste Product کو فائدہ مند چیزوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔اسی چیز کو آپ دیکھ لیں تو پھر دنیا میں انسانوں کی تخلیق کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھیں۔انسان کی ہر تخلیق کاWaste Product ایسا ہے جو اس کے لئے مصیبت بنا ہوا ہے۔Pollution ہوگئی ، فضا گندی ہوگئی روز بروز مصیبت بڑھتی چلی جارہی ہے اور خدا تعالیٰ کی کائنات میں ہر Waste Product دوسرے کے لئے ایک مفید وجود بن گئی ہے۔وہی Waste Product ایک کا زہر دوسرے کی غذا اور ایک ایک ذرہ ہر Waste Product کا دوبارہ سارے نظام میں گھمایا جا رہا ہے اس کا نام استوی عَلَى الْعَرْشِ ہے۔پھر کام چلتے ہیں جیسے چل ہی نہیں رہے پتا ہی نہیں لگ رہا۔میں نے صرف سانس کی بات آپ کو بتائی تھی اس سے آگے کتنی باتیں نکل آئیں مگر آپ میں سے ہر ایک بیٹھا سانس لے رہا ہے اور پتا ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور ایک ایک لمحہ اس سانس کا اس سارے نظام کو متحرک کئے ہوئے ہے جس کا آپ کو تصور بھی کوئی نہیں۔تو تبلیغ کے نظام کو بھی اس طرح کریں نا جیسے خدا تعالیٰ نے کائنات کا نظام بنایا ہے۔اس کا ایک بہت معمولی حصہ ہے لیکن ایک دفعہ جب آپ نے چلا دیا یعنی اس کو آگے بڑھا دیا تو پھر دیکھیں گے کہ یہ ضرور پھل لائے گا۔چھوٹے سے چھوٹا جو اس نظام کا حصہ حرکت کر رہا ہوگا وہ کوئی نتیجہ پیدا کر رہا ہوگا اور جو نتیجہ نہیں پیدا کر رہا اس کو سنبھالنا آپ کا کام ہے۔ہوسکتا ہے Waste Product ہو جو کسی اور جگہ کام آرہا ہو یعنی بعض لوگ ایک کام میں Waste Product یعنی بے کار طاقت پیدا کر رہے ہوتے ہیں اسی حصے کو کسی اور کام میں استعمال کریں تو مفید طاقت بن جاتی ہے۔تو نظام کائنات سے جو خدا تعالیٰ کا نظام ہے اس سے آپ نصیحت پکڑ کے ان باتوں کو جو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں ان کو آگے بڑھائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری تبلیغ کا نظام دن بدن مستحکم ہوتا چلا جائے گا۔مگر اس کی اور بھی باتیں ہیں جو سمجھانے والی ہیں۔سر دست میں نے آپ کو دو باتیں بتائی ہیں۔اس نظام کو جاری کریں ہو سکتا ہے سارا سال محنت کے بعد ہی پوری طرح جاری ہو۔یہ دو مہینے تو تھوڑی بات ہے لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ جہاں بھی احمدی وجود کو آپ نے