خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 419
خطبات طاہر جلد 16 419 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء بار یک بار یک چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے ہم نے اس کام کو آگے بڑھایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے وقت میں وفات دی ہے کہ ان کے دنیا کے سارے کام ایک عمدہ نظام کی صورت میں چل چکے ہیں ہر چیز کا خیال رکھا جا چکا ہے لیکن اس بارے میں میں یہ بات سمجھانی چاہتا ہوں۔بہت سی باتیں ہیں جو میں اس وقت مناسب نہیں سمجھتا جماعت کے علم میں لانا مگر بہت ایسے مواقع آئے تھے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلاء تھا مگر خدا نے ان ابتلاؤں کو حل فرما دیا اور ان کا خود خیال رکھا۔آخری دنوں میں طبیعت واقعی بہت خراب تھی، بہت تکلیف دہ حالات تھے اور خود دعائیں کیا کرتی تھیں کہ اے خدا مجھے اب میرے ماں باپ کے پاس، میرے خاوند کے پاس پہنچا دے۔ان کے لئے جو تعزیت کے خط آرہے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ مجھ میں طاقت نہیں کہ میں ان کا جواب دے سکوں اور ہمارے دفتر میں اور طوعی عملے میں بھی طاقت نہیں ہے۔پہلے جو جواب دیئے جارہے تھے وہی ختم نہیں ہور ہے ابھی تک۔اس لئے میں جماعت سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ یقین کریں کہ ان سب کے خطوط میری نظروں کے سامنے سے گزرے ہیں۔ایک بھی ایسا نہیں جو میں نے نہ دیکھا ہو اور ہر ایک کے لئے دل میں جذبات تشکر پیدا ہوئے ہیں اور دعا ہوئی ہے جزاکم اللہ کہا گیا ہے تو اب خط کی توقع نہ رکھیں۔یہ خطبہ اور اس خطبہ میں جو میں یہ اعلان کر رہا ہوں میری طرف سے جوابی خطوط کا نمائندہ سمجھا جاۓ۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔اس لئے اظہار تعزیت بے شک کریں مگر اظہار تعزیت کا جواب یہ ہے جواب دے رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو دنیا اور آخرت کی بہترین حسنات سے نوازے اور حضرت سیدہ مہر آپا کے درجات کو ہمیشہ بلند فرماتا رہے اور ان کے وہ کام جو نیکی کے کام ابھی ہونے والے باقی ہیں ان کو پوری طرح سرانجام دینے کی مجھے اور جو بھی اس میں ملوث ہیں ان کو توفیق عطا فرمائے۔آمین