خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 395
خطبات طاہر جلد 16 395 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء انہوں نے سر جھکایا ، تائید کی۔یہی وجہ ہے کہ آخری وقت تک رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہ کو یاد کرتے رہے، یاد کر تے تھے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جایا کرتے تھے۔کیسی عظیم بیوی تھی۔اپنے خاوند کو اپنا سب کچھ پیش کیا اور اس کامل یقین کے ساتھ کیا کہ اب یہ واقعہ مالک ہے جو چاہے گا اس سے کرے گا اور خیر ہی کرے گا اور میں اس کے ساتھ ہوں ، پھر آخر عمر تک وفا کی۔پس اس قسم کا فیض آپ دنیا میں جاری کریں یعنی غریبوں کے لئے غربت میں محسن بن جائیں اس بناء پر نہیں کہ اگر آپ غربت کا ازالہ کریں گے تو وہ احمدی ہو جائیں گے۔جو غربت کے ازالے کی خاطر احمدی ہوا کرتے ہیں۔وہ پھر لمبا عرصہ احمدی رہا نہیں کرتے۔آج مطلب ہوا کل مطلب ختم ہو گیا۔پس اس غربت کے ازالے کو مؤلفۃ القلوب کے مضمون سے ملائیں نہیں۔یہ دو الگ الگ مضمون ہیں۔الگ الگ مضمون اس لئے ہیں کہ تالیف قلب کی شرط یہ ہے کہ نئے آنے والے لوگ اپنے دلوں کی تالیف کے لئے کچھ زیادہ احسان چاہتے ہیں ، وہ احسان کا سلوک کرو اور یہ احسان اگر سچا ہو اور حقیقی ہو آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق ہو تو تھوڑی دیر کے بعد یہ احسان کے محتاج رہتے ہی نہیں۔یہ مؤلفة القلوب ایک دو سال کی باتیں ہیں۔یہ غربت کا دور کرنا جس میں مذہب کی قبولیت آپ کی نیت میں داخل ہو وہ تالیف قلب نہیں ہے کیونکہ وہاں چند سال کے بعد ان کی نچلے ہاتھ کی عادت ہو جائے گی۔ایسی قوموں کو سنبھالنے کے لئے آپ کو پھر مسلسل پیسے دینے پڑتے ہیں۔جہاں پیسے رو کے وہاں یہ مرتد ہو گئے یا مرتد نہ ہوئے تو احمدیت میں دلچسپی چھوڑ دی۔تو ساری باریک راہیں جو آپ کو لازماً سمجھانی ہیں کیونکہ ان راہوں پر آپ نے چل کر بہت آگے بڑھنا ہے۔تو جہاں فیض کا دوسرا پہلو اختیار کر یں وہاں ان دو چیزوں میں فرق کریں۔غربت کے خلاف جہاد جہاں توفیق ہے، طاقت ہے وہاں دوطریق سے کریں اور اس میں مذہب کو بیچ میں دخل نہ دینے دیں۔مذہب کو دخل دینے کا مضمون بھی آئے گا لیکن وہ اقرباء والے مضمون میں داخل ہے اس کی بات میں بعد میں کروں گا۔پہلی عمومی بات کر رہا ہوں کہ جب آپ غربت دور کریں، فاقہ دور کریں جیسے زائر میں ہو رہا ہے یا آج کل سیرالیون میں بڑی مصیبت پڑی ہوئی ہے اور بہت سے ممالک ہیں جو غربت اور فاقوں کا شکار ہیں وہاں فاقوں کے خلاف جہاد کرنا ہے۔آپ کو اس سے کوئی غرض نہیں کوئی دہر یہ ہے