خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 396 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 396

خطبات طاہر جلد 16 396 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء یا مومن ہے، بندہ خدا کا ہے جو مصیبت میں مبتلا ہے اور اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ تم میرے بندے ہو تو میرے بندوں کی خدمت کرو۔پس جتنی توفیق ہے وہ کریں اور وہاں بھی ساتھ ساتھ دوسرا پہلو یہ پیش نظر رکھیں کہ ان لوگوں کو اگر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش ممکن ہے تو اس کو فوقیت دیں۔انگلستان میں ایسی ایک تحریک چل رہی ہے اس میں بھی ہم حصہ لے سکتے ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے ہدایت کی تھی کہ میرے اور میرے سب بچوں کی طرف سے اس کا ممبر بن جانا چاہئے ہمیں۔امید ہے مبارک ظفر صاحب نے جو میرے ذاتی اکاؤنٹس کو بھی سنبھال رہے ہیں انہوں نے اس پر عمل کیا ہوگا مگر اگر بھول گئے ہیں تو اب فورا کریں۔وہ سکیم یہ ہے کہ تین پاؤنڈ غالبا یا کچھ لگ بھگ رقم فی مہینہ دینی پڑتی ہے اور یہ جو انجمن بنی ہوئی ہے یہ غریب ملکوں میں پیسے نہیں بانٹتی ، گندم نہیں بانٹتی بلکہ ان ذرائع کو مہیا کرتی ہے جن کے ذریعے وہ خود گندم پیدا کرسکیں۔وہ ذرائع مہیا کرتی ہے جن کے ذریعہ وہ خود اپنے لئے پانی نکال سکیں زمین سے۔وہ ذرائع مہیا کرتی ہے، وہ طریقے سکھاتی ہے جن کے ذریعے وہ اپنے لئے چاول پیدا کر سکیں۔تو ایک بہت باعزت اور عظمت والی تحریک ہے اور میں اس سے بہت متاثر ہوں کیونکہ میرے نزدیک اسلام کی تعلیم کا ایک چھوٹا سا شوشہ ہے جو انہوں نے صلى الله از خود اختیار کر لیا ہے کیونکہ اسلام یہی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ میں آنحضرت ﷺ کے حوالے سے بارہا آپ کے سامنے یہ مضمون کھولتا چلا جارہا ہوں۔پس جماعت احمدیہ کو بھی اس قسم کی تحریکات کو اپنے اپنے ملکوں میں جاری کرنا چاہئے۔جہاں غربت کو آپ کی ضرورت ہے، جہاں غربت کو اس طرح دور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے اور سب سے زیادہ دردناک حالت غربت کی قرآن کریم یہی بیان فرماتا ہے أو اظعُمُ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيمَا ذَا مَقْرَبَةِ أَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةِ (البلد: 15 تا 17) - تو ذَا مَتْرَبَةِ کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةِ سے مراد وہ ہیں جن کے اقرباء ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ان کا خیال رکھ رہے ہوں گے اور اقرباء خیال نہیں رکھ رہے۔پس آپ کو آگے بڑھ کر ان کے اقرباء بننا ہوگا اور ذی متـر بـہ وہ لوگ ہیں جن کی ٹانگیں جواب دے گئی ہیں، ان میں کھڑے ہونے کی طاقت ہی نہیں رہی ، وہ مٹی میں مل گئے ہیں۔نہ ان کی عزت کا کوئی خیال رہا ہے۔وہ مجبور ہیں بھیک مانگنے پر اپنی بقاء کے لئے ، وہ مجبور ہیں