خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 394
خطبات طاہر جلد 16 394 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء میں مبتلا ہو جائیں گے۔ان کی روحیں غلام بن جائیں گی ان کی روحوں کو ہمیشہ بھکاری بن کے ہاتھ آگے بڑھانے کی عادت بن جائے گی۔ان کی اگلی نسلیں کس کام کی ہوں گی ، احمدیت کے کس کام آئیں گی۔پس تیسرا حصہ جو نصیحت کا ہے وہ فیض سے تعلق رکھتا ہے اپنے فیض کو عام کریں اور وہ فیض رساں بنیں جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی امیہ تھے۔اپنے غلاموں میں فیض رساں پیدا کر دئے اور ان کی غربت ان کی فیض رسانی کی راہ میں حائل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بھی تھے جن کو دنیا نصیب ہوئی اور اپنے ہاتھوں سے بانٹ کر غریب ہو گئے اور غریبی میں بھی فیض جاری رکھے۔تو جونئی قو میں آ رہی ہیں اگر آپ ان کو یہ فیض بخشیں تو آپ دیکھیں ان کے سر ایک پہلو سے خدا کے حضور جھکیں گے دوسرے پہلو سے دنیا کے سامنے سر بلند بھی ہوں گے، اپنے وجود کے سامنے سر بلند ہوں گے۔وہ اپنے نفس سے کوئی شرمندگی محسوس نہیں کریں گے۔ان کا وہ حال نہیں ہوگا جو قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جب تم ان کو کچھ خیرات ڈالتے ہو تو ان کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔وہ لوگوں کو خیرات دیں گے اور شرم سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے احسان کی یاد سے ان کی آنکھیں اٹھیں گی اور وہی سجدہ ریز ہوں گی۔اپنی ان حالتوں پر شکر کریں گے اور شکر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ بڑھاتا چلا جائے گا۔پس یہ احسان کا یہ پہلو ہے جس کو اول طور پر اپنے سامنے رکھیں۔پھر دوسرا پہلو اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کا بھی ہے جو ہماری ذمہ داری ہے۔دوسرا پہلو بھوک کو جب وہ کاٹتی ہو اس وقت مٹانے کا پہلو ہے جس کی قرآن نے الگ تلقین فرمائی ہے اور اس کا تبلیغ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ یاد رکھیں جب میں یہ نصیحت کرتا ہوں تو تبلیغ سے جوڑ کر اس کو نہیں کرنا۔بھوکا تو بھوکا ہے خواہ وہ ہندو بھوکا ہو یا سکھ بھوکا ہو یا مسلمان بھوکا ہو یا عیسائی بھوکا ہو۔بھوکے سے اس طرح برتاؤ کریں جیسے حضرت محمد مصطفی سے بھوکوں سے برتاؤ کیا کرتے تھے اور نبوت سے پہلے بھی کیا کرتے تھے بلکہ وہی برتاؤ تھا جس نے آپ کے شعلہ نور کو ایک ایسا نور بنا دیا جس پر آسمان سے بھی نور نازل ہوا ہے۔حضور اکرم ﷺ کا نبوت سے بہت پہلے کا یہ حال تھا کہ جو کچھ ہوتا تھا غریبوں میں تقسیم کر دیا۔حضرت خدیجہ سے جو کچھ پایا آپ نے پوچھا کہ تم مجھے اس طرح دے رہی ہو کہ واقعہ مجھے مالک بنا رہی ہو اتنی بڑی دولت کا۔انہوں نے کہا ہاں میرے آقا یہی ہے میرا مقصد، آپ اس کے مالک ہیں۔آپ نے کہا اچھا اگر میں مالک ہوں تو میں ساری دولت تقسیم کر دوں گا۔۔